تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 69

حاصل ہوتی ہے اس کا مال زیادہ سے زیادہ مشتبہ ہوتا جاتا ہے اور دوسرے لوگوں کا حصہ اس میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوتا جاتا ہے۔لیکن دینی ترقی کی یہ صورت نہیں۔دینی ترقی میں انسا ن کس قدر بھی ترقی کرے وہ اپنا ہی حصہ لیتا ہے دوسروں کا حصہ نہیں مارتا۔اسی کی طرف قرآن کریم میں دوسری جگہ اشارہ ہے کہ مومن کو جنت ملتی ہے جس کی کیفیت یہ ہے کہ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ( اٰل عمران :۱۳۴) یعنی جنت کی تمام لمبائی چوڑائی ہر مومن کو حاصل ہوگی۔فرق صرف یہ ہوگا کہ ہر مومن بقدر ذوق و استعداد اس سے فائدہ حاصل کررہا ہوگا۔پس روحانی ترقی میں کسی کا حق مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور چونکہ مومن کسی کا حق نہیں مارتا اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اس کی روح پر گناہ اور حق تلفی کا بوجھ نہیں ہوتا۔اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ جو (لوگ) ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کے لئے (بڑی) قابل رشک حالت اور بہترین مَاٰبٍ۰۰۳۰ واپسی کی جگہ( مقدر) ہے۔حلّ لُغَات۔طُوْبٰی مَصْدَ رٌبِمَعْنَی الطَّیِّبُ۔طُوْبٰی مصدر ہے جو طیب کے معنے دیتا ہے۔اصلہٗ طُیْبٰی قُلِبَتِ الْیَاءُ وَاوًا لِسُکُوْنِہَا بَعْدَ ضَمَّۃٍ۔عربی کے قاعدہ کے مطابق یاواؤ سے تبدیل ہو گئی۔نیز طَیِّبَۃٌ کی جمع ہے اور اَطْیَبَ کی تانیث ہے۔اور اس کے معنے ہیں اَلْغِبْطَۃُ رشک۔اَلسَّعَادَۃُ۔نیک بختی۔اَلْحُسْنٰی۔اچھا انجام۔اَلْخَیْرُ۔بھلائی۔(اقرب) طُوْبٰی کی صفت محذوف ہے یعنی اَلْحَالَۃُ معنے یہ ہوں گے کہ قابلِ رشک حالت۔اچھی حالت۔اَلْمَاٰبُ۔اَلْمَرْجِعُ۔لوٹنے کی جگہ۔اَلْمُنْقَلَبُ واپسی کی جگہ۔(اقرب) تفسیر۔یعنی مومن کو نیکی اور سعادت حاصل ہوگی اور ایسے انعامات ملیں گے جن سے بڑھ کر ذہن میں نہیں آسکتے اور آخری ٹھکانا نہایت اعلیٰ ہوگا اور اچھا وہی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔