تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 68
اپنے بچے کے مل جانے سے خوشی ہوئی ہے اس سے کئی گناہ زیادہ اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے جب اس کا گنہگار بندہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا ایک دوسرا سبق آموز پہلو بیان فرمایا ہے۔مگر میرا مقصد اس واقعہ کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اس عورت کو کس قدر تڑپ تھی جب تک اس کا اصلی مقصد نہیں ملا تھا مگر جب مقصود ملا تو اسے اطمینان حاصل ہو گیا۔یہی حال ہر انسان کا ہے۔اصلی مقصد کے ملنے کے ساتھ ہی تڑپ دور ہوجاتی ہے اور اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔انسانی پیدائش کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی یاد اور ذکر ہے پس چونکہ اصل مقصد انسانی پیدائش کا خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر ہی ہے۔جب خدا مل جاتا ہے تو کوئی جلن اور تڑپ نہیں رہتی۔بلکہ اطمینان ہی رہتا ہے۔جو لوگ دنیا کی جستجو میں رہتے ہیں ان کو جس قدر ترقی ملتی ہے ان کی جلن بڑھتی جاتی ہے۔مگر جو خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے اور جس قدر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اتنا ہی اس کے دل کا اطمینان بڑھتا جاتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ذات کی جستجو ہی ہماری زندگی کا اصل مقصد قرار دیا ہے۔پس جب وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے انسان کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔ہماری ریاستوں کو ہی دیکھو۔باوجودیکہ ان کی حفاظت گورنمنٹ کے ذریعہ ہے مگر بعض رؤسا کے ڈر کا یہ حال ہے کہ ولایت سے بند ہوکر پانی آتا ہے۔ان کے سامنے کھولا جاتا ہے۔پھر بھی پہلے دوسروں کو پلایا جاتا ہے پھر راجہ صاحب پیتے ہیں۔اسی طرح ان کا کھانا ہے کہ ہزار احتیاطوں میں لگایا جاتا ہے۔پھر اس سے پہلے خود اسی کو کھلایا جاتا ہے جو پکانے والا ہو۔پھراس کو ڈاکٹر کھاتا ہے۔پھر ان کے سامنے پیش ہوتا ہے۔گویا ہر دم خطرہ ہے۔اور احتیاط ہوتی رہتی ہے۔ہر دم بے چینی رہتی ہے۔مگر ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو ہر طرف دشمن ہی دشمن ہیں۔مگر کوئی خطرہ نہیں۔اطمینان و سرور ہے۔دشمن بھی اگر کھانے کی دعوت دیتا ہے تو بے دھڑک چلے جاتے ہیں۔ایک دفعہ ایک یہودن عورت نے زہر بھی دے دیا مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کے الہام سے آپؐ کو یہ امر معلوم ہو گیا۔اور آپؐ اس سے محفوظ رہے(سیرت النبی لابن ہشام زیر عنوان امر خیبر)۔آپؐ کو اس قدر اطمینان کیوں تھا؟ اسی وجہ سے کہ آپؐ نے ایک ایسی ہستی سے تعلق قائم کیا ہوا تھا جو غیب کو جانتی ہے اور اس سے جب کسی کا تعلق ہو جاتا ہے تو وہ اپنے غیب سے بندے کو بھی حسب ضرورت حصہ دیتا رہتا ہے۔پس اس سے تعلق رکھنے والا مطمئن رہتا ہے۔چونکہ مومن کسی کا حق نہیں مارتا اس لئے اس کا دل مطمئن ہوتا ہے دینی ترقی میں اطمینان کی زیادتی اور دنیوی ترقی میں عدم اطمینان کی زیادتی کی ایک روحانی وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیوی ترقی جس قدر انسان کو