تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 54
ہیں کہ وہ عقلمند ہیں۔اللہ تعالیٰ اولوالالباب کی علامات بیان فرماتا ہے تاکہ انسان اس مخفی جوہر کو اس کی علامتوں کے ذریعہ سے پہچان سکے۔عقل مندوں کی پہلی علامت پہلی علامت یہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو حقیقت شناس ہوتے ہیں اور چھلکے کے پیچھے پڑنے سے اپنے آپ کو روک دیتے ہیں اس عہد کو جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے کامل طور پر پورا کرتے ہیں۔عقل کا کام یہی ہے کہ وہ موازنہ کرتی ہے اور جو اعلیٰ شیئے ہو اس کو قبول کرلیتی اور جو ادنیٰ شیئے ہو اسے رد کردیتی ہے۔پس یہ لوگ اس امر کو دیکھ کر کہ سب برکت اللہ تعالیٰ کے عہد کے پورا کرنے میں ہے ہمہ تن اس عہد کو پورا کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور دوسرے سب امور کو اس عہد کے تابع کر دیتے ہیں۔اگر وہ اس عہد کے مطابق ہوں تو انہیں اختیار کرتے ہیں اور اگر خلاف ہوں تو انہیں رد کردیتے ہیں اور عہد کو ٹوٹنے نہیں دیتے۔وَ الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يَخْشَوْنَ اور جو( لوگ) کہ ان تعلقات کو قائم کرتے ہیں جن کے قائم کرنے کا اللہ (تعالیٰ )نے حکم دیا ہے۔اور اپنے رب رَبَّهُمْ وَ يَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ۰۰۲۲ سے ڈرتے ہیں اور برے (انجام والے) حساب سے خوف رکھتے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَصِلُوْنَ وَصَلَ سے ہے اور وَصَلَ الشَّیْءَ بِالشَّیْءِ کے معنے ہیں۔لَأَ مَہٗ وَجَمَعَہٗ ضِدُّ فَصَلَہٗ۔کسی چیز کو ملایا۔جوڑا۔(اقرب) پس يَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ کے معنے ہوں گے کہ ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں جن کے قائم رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اَلْخَشْیَۃُ یَخْشَوْنَ رَبِّھُمْ۔یَخْشَوْنَ خَشِیَ سے ہے اور اَلْخَشْیَۃُ کے معنے ہیں خوف یَشُوْبُہٗ تَعْظِیْمٌ وَاَکْثَرُ مَایَکُوْن ذٰلِکَ عَنْ عِلْمٍ بِمَا یُخْشٰی مِنْہُ وَلِذٰلِکَ خُصَّ الْعُلَمَاءُ بِھَا فِی قَوْلِہٖ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ۔یعنی خشیت اس خوف کو کہتے ہی جس میں اس شخص کی جس سے خشیت کی جائے تعظیم بھی ملی ہوئی ہو اور اس کی بزرگی کا احساس بھی ہو۔اور لفظ خشیت کا اکثر استعمال اس جگہ ہوتا ہے جہاں خوف کی وجہ کا بھی علم ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خشیت صرف اس کے عالم بندوں کے دل میں ہوتی ہے۔ورنہ خوف تو عام