تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 55

لوگوں کے دل میں بھی ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے (مفردات) پس يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ کے معنے ہوں گے کہ وہ اپنے رب سے ایسی خشیت کرتے ہیں جس میں اس کی تعظیم اور بزرگی پائی جاتی ہے اور وہ علم پر مبنی ہوتی ہے۔تفسیر۔عقل مندوں کی دوسری علامت دوسری علامت عقلمندوں کی یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد کی پابندی کے بعد اور اس سے کامل تعلق پیدا کرلینے کے بعد اس کے ان بندوں کی طرف جھکتے ہیں جن سے تعلق رکھنے کا اس نے حکم دیا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کے رسول، ملائکہ، خلفاء پھر اولیاء و ابرار اور اس کے بعد تمام مخلوقات حسب مراتب مثلاً قومی نظام کے چلانے والے رشتہ دار، محسن ہمسائے، غرباء و مساکین اہل وطن، مسافر باقی افراد انسانیت، حیوانات جن سے وہ کام لیتا ہے اور پھر تمام چرند پرند حتیٰ کہ درندے اور کیڑے مکوڑے پھر نباتات اور جمادات غرض تعلق باللہ کے بعد عقلمند انسان کا کام ہے کہ جن جن چیزوں سے اور جس جس حد تک اللہ تعالیٰ نے تعلق کا حکم دیا ہے اس حد تک اور اس صورت میں ان سے تعلق رکھے۔اس علامت میں گویا شفقت علی خلق اللہ اور مادی اسباب سے استمداد اور ان کے استعمال کا ذکر کیا ہے اور یہ نکتہ بتایا ہے کہ عقلمند وہ نہیں جو دنیا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی جستجو کرتا ہے بلکہ عقلمند وہ ہے جو خدا تعالیٰ کو پاکر اس کے ارشاد کے ماتحت دنیا کی طرف جھکتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتی ہے کہ دَنَا فَتَدَلّٰى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (النجم :۹،۱۰) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول تو خدا تعالیٰ کے قریب ہوئے۔پھر اس کے حکم کے ماتحت اس مقام سے اتر کر مخلوق کی طرف جھکے۔اور شفقت علی خلق اللہ کا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور خدا تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان واسطہ بن گئے۔جس طرح کمان کا چلہ ہوتا ہے کہ ایک سرا ایک طرف اور ایک سرا ایک طرف بندھا ہوا ہوتا ہے۔اس آیت میں لطیف پیرایہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کوشش کا ذکر کیا ہے جو آپؐ نے بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے کی۔لیکن چونکہ یہ موقع اس آیت کی تفسیر کا نہیں میں نے درمیانی مطالب کو ترک کرکے صرف نتیجہ بیان کر دیا ہے۔غرض آیت زیر تفسیر میں اللہ تعالیٰ نے عقلمندوں کی دوسری علامت یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور محبت میں کمال حاصل کرکے اس کے حکم اور اس کی ہدایت کے ماتحت مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اور مخلوق سے رشتہ اتحاد و اخوت اور احسان جوڑتے ہیں۔عقل مندوں کی تیسری علامت تیسری علامت یہ بتائی ہے کہ عقلمند لوگ اپنے رب کی خشیت دل میں رکھتے ہیں۔