تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 53
جب دو چیزوں میں مقابلہ کیا جائے تو ہمیشہ یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جو چیز پہلے مذکور ہو اس کو دوسری پر قیاس کیا جاتا ہے۔اگر پہلی اچھی ہو تو مراد یہ ہے کہ کیا یہ شئے بری شئے کی طرح مضر ہوسکتی ہے اور اگر پہلے بری مذکور ہو تو یہ مراد ہوتی ہے کہ کیا یہ بری شئے اچھی چیز کی طرح فوائد پیدا کرسکتی ہے۔مثلاً اگر یہ کہیں کہ کیا اندھا آنکھوں والے کے برابر ہوسکتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ آرام اور فوائد جو آنکھوں والے کو حاصل ہیں وہ اندھے کو نہیں حاصل ہوسکتے اور اگر یہ کہا جائے کہ کیا آنکھوں والا اندھے کی طرح ہوسکتا ہے تو اس وقت زور اس بات پر ہوتا ہے کہ اندھے کو جو تکالیف پہنچتی ہیں کیا وہی آنکھوں والے کو پہنچ سکتی ہیں۔پس اس آیت میں اس پر زور ہے کہ مسلمان کسی طرح بھی ان نقصانات میں مبتلا نہیں ہوسکتے جو کفار کو پہنچ سکتے ہیں۔اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ میں ایک نیا مضمون بیان کیا ہے۔فرماتا ہے اس تعلیم سے وہی لوگ نصیحت و نفع حاصل کرتے ہیں جو اولوالالباب ہیں۔یعنی جو دینی لب اور عقل رکھتے ہیں یہ مقابلہ جو پیچھے مسلمانوں اور کافروں کی حالت کا کیا گیا ہے اس سے نفع حاصل کرنا عقلمندوں کا کام ہے۔جو دینی عقل کو مار دیتا ہے اور اسے ضائع کر دیتا ہے وہ اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس دین کی باتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے عقل کو محفوظ رکھنا اور اسے عادات و جذبات سے کند نہ ہونے دینا ضروری ہوتا ہے مگر افسوس کہ اکثر لوگ اس قیمتی جوہر کو عادات و جذبات کے پردوں میں چھپاد یتے ہیں اور بظاہر انسان لیکن بباطن حیوان ہوتے ہیں۔کاش کوئی اس پر غور کرے اور فائدہ اٹھائے۔الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَۙ۰۰۲۱ جو اللہ( تعالیٰ) کے( ساتھ کئے ہوئے) عہد کو پورا کرتے ہیں اور اس پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔حلّ لُغَات۔اَلْعَہْدُ۔اَلْوَصِیَّۃُ۔وصیت۔اَلْیَمِیْنُ یَحْلِفُ بِھَا الرَّجُلُ۔قسم۔اَلْمَوْثِقُ۔پختہ بات۔اَلْمِیْثَاقُ۔پختہ اقرار۔اَلَّذِیْ یَکْتُبُہٗ وَلِیُّ الْاَمْرِ لِلْوُلَاۃِ اِیْذَانًا بِتَوْلِیَتِھِمْ۔بادشاہ اپنے ماتحت افسران کو جو ان کی تقرری کا حکم نامہ لکھ کر دیتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔چونکہ باوجود اس کے کہ ہر شخص میں اللہ تعالیٰ نے عقل کا مادہ رکھا ہے۔لوگ عام طور پر اس کو استعمال نہیں کرتے اور عدم استعمال کی وجہ سے اسے بالکل مار دیتے ہیں۔مگر باوجود اس کے اس امر کے مدعی ہوتے