تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 365
مثانی اور قرآن عظیم سورہ فاتحہ کو کہا گیا ہے اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن عظیم سارے قرآن کانام نہیں۔دونوں ہی معنے ایک وقت میں کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔یہ بھی کہ سور ۃ فاتحہ قرآن عظیم ہے اوریہ بھی کہ ساراقرآ ن قرآن عظیم ہے۔کیونکہ یہ دونوں معنے مختلف نقطہ نگاہ کی وجہ سے ہیں۔اوراپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔اگرقرآن عظیم کے معنے سارے قرآن کے کئے جائیں تویہ مطلب ہوگاکہ ہم نے تم کو اجمالی قرآن یعنے سورۃ فاتحہ بھی دی ہے اوراس کے علاوہ ایک تفصیلی قرآن بھی دیا ہے۔پس اس کی تعلیم کی طرف توجہ کرو۔اوران لوگوں سے بحث مباحثہ کاخیال جانے دو اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوںکو مطالب قرآن خوب زور سے سکھائے جائیںتاکہ وہ نئے نظام کے سنبھالنے کے اہل ہوجائیں۔لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ اوروہ جو ہم نے ان میں سے کئی گروہوں کو عارضی نفع کا سامان دیاہے اس کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کرنہ دیکھ اوران لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۸۹ (کی تباہی)پر غم نہ کھا۔اورمومنوں پر اپنا (شفقت کا)بازو جھکائے رکھ۔حل لغات۔تَمُدَّنَّ: تَمُدَّنَّ مَدَّ سے مضارع کاصیغہ ہے اورمَدَّ نَظَرَہٗ اِلَیْہِ کے معنے ہیں طَمَحَ بِبَصَرِہٖ اِلَیْہِ کہ اس کی طرف ٹکٹکی لگاکر دیکھا(اقرب) پس لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ کے معنے یہ ہوں گے کہ توان کی ترقیات کی طر ف ٹکٹکی لگاکر نہ دیکھ۔تفسیر۔آیت لَا تَمُدَّنَّ کے غلط معنوں کی تردید بعض لوگوں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ بصریٰ اوراوزعات سے بنوقریظہ اوربنونظیر کے سات قافلے آئے تھے وہ کپڑوں اورعطروں اورجواہرات پر مشتمل تھے انہیں دیکھ کر صحابہؓ نے کہا کہ کاش یہ مال ہمارے پاس ہوتا تو ہم کو اس سے طاقت حاصل ہوتی۔اورہم اسے خدا کی راہ میں خرچ کرتے (تفسیر القرطبی زیر آیت ھذا)۔یہ معنے میرے نزدیک درست نہیں۔اوران کے غلط ہونے کا یقینی ثبوت یہ ہے کہ سب مفسرین متفق ہیں کہ یہ سورۃ ساری کی سار ی مکی ہے (تفسیر القرآن از ویری اور ترجمہ القرآن راڈویل) حتی کہ عیسائی مستشرقین تک یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ یہ سورہ سب کی سب مکی ہے۔پھر جب