تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 366

یہ سورہ مکی ہے توبنوقریظہ اوربنونظیر کے قافلوں کودیکھ کر مسلمانوں کاایسی خواہش کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ بنو قریظہ اوربنونظیر کی حالت تو مسلمانوں نے ہجرت کے بعد دیکھی تھی۔مکہ میں نازل ہونے والی سورۃ میں اس کا ذکر کیونکر آگیا؟نیز سوچنا چاہیے کہ اس آیت میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مخاطب ہیں۔صحابہ تومخاطب نہیں۔اورآپؐ کی طرف ایسی خواہش منسوب کرنا میرے نزدیک توکسی صورت میں جائز نہیں بلکہ سو ء ادب ہے۔نیز جبکہ اس سورۃ میں زور ہی اس امر پر ہے کہ ہم مسلمانوں کی ترقی کے سامان خود پیداکریں گے تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے د ل میں ایساخیال پیداہی کس طرح ہوسکتاتھا کہ خدا تعالیٰ توکہے کہ اس بارہ میں توہم پرتوکل رکھ اور رسول لوگوں کے اموال کودیکھ کر کہے کہ یہ مال ہمارے پاس ہوتاتوخوب ترقی کرتے۔اسے کونسی عقل تسلیم کرسکتی ہے۔آیت لَا تَمُدَّنَّ کا مطلب اصل بات یہ ہے کہ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ میں کفار کے نظا م کے ٹوٹنے کااشارہ تھا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل کوجو نہایت حساس تھا اورجس میں اپنی قو م کی خیر خواہی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔لازماً یہ صدمہ ہوناتھا کہ اب میری قوم یا اس کے عمائد ایمان سے محروم رہ جائیں گے اورتباہ کردیئے جائیں گے چنانچہ آپؐ ان صنادیدکی حالت کو دیکھ کر جن پر مکہ کے نظام کا مدار تھا۔سخت افسوس کرتے ہوں گے کہ کاش یہ لوگ تباہ نہ ہوتے اورجس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کودنیا میں بڑا بنایاہے اللہ تعالیٰ ان کو دین میں بھی بڑابناتاتواچھا ہوتااوریہ خواہش نہایت پاکیزہ ہے۔نبی کبھی کسی کی تباہی پر خوش نہیں ہوتا۔بلکہ چاہتا ہے کہ سب ہی ایما ن لے آئیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو اس خواہش میں اس قد ر بڑھے ہوئے تھے کہ آپ کی نسبت قرآن کریم میں آتاہے لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤُمِنِیْنَ(الشعراء:۴) اے محمد!(رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تُوتو شائد اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کرلے گا۔کہ یہ لوگ سب کے سب مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے۔پس آپؐ کے ان شریف جذبات کو اس خبر سے ٹھیس لگی ہوگی۔لَا تَمُدَّنَّ کے الفاظ کفا ر کی تباہی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ؐ کے لئے بطور تسلی ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ الفاظ بیان فرمائے۔اورکہا کہ تجھے اپنی قوم کے اکابر کی تباہی کی خبر سن کر افسوس ہوگا۔کیونکہ تُو ان کی ہدایت کی زبردست خواہش رکھتا ہے مگراب ہم ان کی تباہی کافیصلہ کرچکے ہیں۔پس اب ان لوگوں کے لئے افسوس کرناچھوڑ دے۔اوران کی ظاہر ی بڑائیوں کا خیال نہ کر۔اب تو تیرے رب نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کو چھوٹاکردے اورتباہ کردے۔پس اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ ان کے اموال کولالچ کی نگاہ سے نہ دیکھ۔بلکہ یہ فرماتا ہے کہ ان کی ظاہری شان وشوکت دیکھ کر یہ افسو س نہ کر کہ اب عذاب الٰہی ان کو کنگال اورتباہ کر