تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 364
کہ یہ اعتراض درست نہیں۔کیونکہ مثانی مُثْنٰی کی بھی جمع ہے جو اثنٰی رباعی سے مُفْعَل کے وزن پر ہے اورا س کے معنے ثناء کے ہیں۔یعنے جس میں اللہ تعالیٰ کی ثناکا مضمون اچھی طرح بیان کیاگیا ہے ( بحر محیط زیر آیت ھذا)۔ان معنوں کے روسے آیت کے معنے ہوئے ہم نے تجھ کو سات آیتوں والی وہ سورۃ دی ہے کہ جوبار بار دہرائی جاتی ہے یاجس میں سات آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی ثناکامل طورپر بیان کی گئی ہے۔تفسیر۔مثانی کے اصل معنی جب یہ فرمایا کہ یہ لوگ اب تباہ ہونے کو ہیں اوران کی جگہ مسلمانوں کو برتری ملنے والی ہے۔توساتھ ہی فرمایاکہ ان کی طرف سے توجہ ہٹاکر اب تم مسلمانوں میں قرآن کی ترویج اورتعلیم پر زیادہ زور دوتاکہ کامیابی کے دنوں کے آنے سے پہلے یہ اس کام کے لئے جو ان کے ذمہ لگنے والا ہے تیار ہوجائیں چنانچہ فرمایا ہم نے تم کو سور ہ فاتحہ جیسی نعمت دی ہے جو صرف سات آیات ہیں۔اورمثانی ہیں مثانی کے معنے جیساکہ حل لغات میں بتائے جاچکے ہیں۔کسی شے کی قوت اورطاقت کے بھی ہوتے ہیں۔اورسورہ فاتحہ کو مثانی کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اس میں قرآن کریم کی قوتوں اورطاقتوں کانچوڑہے یعنے ہیںتوسات مختصر آیات لیکن سارے قرآن کے مطالب اجمالاً اس میں آگئے ہیں۔قرآن عظیم سے مراد بقیہ قرآن بھی ہو سکتا ہے قرآن عظیم سے مراد بقیہ قرآن بھی ہو سکتا ہے اورمراد یہ ہوگی کہ سورئہ فاتحہ بھی دی جو اجمالی قرآن ہے اورتفصیلی قرآن بھی دیا۔اوراس سے مراد خود سورہ فاتحہ بھی ہوسکتی ہے۔اس صورت میں اس سے یہ مطلب ہوگا کہ سورئہ فاتحہ قرآن کریم کا ایک بڑامہتم بہ حصہ ہے۔اورقرآن سے ساراقرآن نہیں بلکہ حصہ قرآن مراد لیا جائے گااوریہ عام محاورہ ہے کہ کبھی جزو کے لئے کل کالفظ بول دیاجاتاہے جیسے عام طور پر لوگ کہتے ہیں۔قرآن سنائو اوراس سے مراد ساراقرآن سنانا نہیں ہوتابلکہ اس کاکچھ حصہ سنانا مطلوب ہوتاہے۔پس القرآن العظیم کا لفظ سورئہ فاتحہ کے متعلق اس اظہار کے لئے ہے کہ وہ قرآن عظیم کاحصہ ہے اس سے باہر نہیں۔ان معنوں سے ان لوگوں کے خیالات کی تردید ہوتی ہے جویہ خیال کرتے ہیں کہ سورئہ فاتحہ قرآن کاحصہ نہیں۔حدیث میں سورہ فاتحہ کا نام سبع مثانی رکھا گیا ہے احادیث میں بھی سورۃفاتحہ کا نام قرآن عظیم بتایاگیاہے۔چنانچہ مسند احمد حنبل میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھِیَ اُمُّ الْقُراٰنِ وَھِیَ السَّبْعُ المَثَانِیْ وَھِیَ القُرْاٰنُ الْعَظِیْمُ(مسند احمد بن حنبل مسند أبی ھریرۃؓ)یعنی سورۃ فاتحہ ام القرآن بھی ہے اورسبع المثانی بھی ہے اورقرآن عظیم بھی ہے۔