تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 356
وَ كَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ۰۰۸۳ اوروہ پہاڑوں کے بعض حصوں کوکاٹ کر امن سے مکان بناتے تھے۔حلّ لُغَات۔یَنْحِتُوْنَ۔یَنْحِتُوْنَ نَحَتَ سے مضارع جمع غائب کاصیغہ ہے اورنَحَتَ الْحِجَرَ کے معنے ہیں۔سَوَّاہُ وَاَصْلَحَہٗ۔پتھر کو کاٹ کر درست کیا اورٹھیک کیا۔وَفِی الْقُرْآنِ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا اَیْ تَتَّخِذُوْنَ۔اورقرآن مجید میں جو آیت يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ آئی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تم پہاڑوں میں گھر بناتے ہواورنحتَ الجبل کے معنے ہیں حَفَرَہٗ اس کو کھودا۔(اقرب) البیت۔اَلْبُیُوْتُ اس کامفرد اَلْبَیْتُ ہے جس کے معنے ہیں۔اَلْمَسْکَنُ سَوَاءٌ کَانَ مِنْ شَعْرِ اَوْمَدَرٍ یعنی بیت مسکن کو کہتے ہیں خواہ وہ بالوں سے یعنی اون کابنا ہواہو جیسے خیمے وغیرہ ہوتے ہیں۔یاکچی مٹی گارے وغیرہ کابناہواہو۔یعنی کچاو پکا مکان۔اَلشَّرَفُ اور بَیْتُ شَرَفٍ یعنی بلندی اورعزت کو بھی کہتے ہیں۔الشَّرِیْفُ اورشریف یعنی سردار قوم کو بھی بیت کہتے ہیں کیونکہ قو م اس کے سایہ تلے رہتی ہے اوروہ قو م کے لئے بطور حفاظت کے ہوتاہے (اقرب) سردار قوم کو بیت کہے جانے کے متعلق چند لطیف اشعار اس محاورہ کے استعمال کے متعلق چند نہایت لطیف اشعار ایک مجذوب کے میں نے تاریخ میں پڑھے ہیں کہتے ہیں۔حضرت جنید بغداد ی فوت ہوئے تو ایک مجذوب جو بغداد کے شہر میں رہتاتھا۔ان کے جناز ہ کے موقعہ پر دیکھا گیا اس نے بلند آواز سے ان کی نعش کی طرف اشارہ کرکے یہ شعرپڑھے وَاأَسْفَاعَلیٰ فِرَاقِ قَوْمٍ ھُمُ الْمَصَابِیْحُ وَالْحُصُوْنُ وَالْمُدُنَ وَالْمُزْنُ وَالرَّوَاسِیْ وَالْخَیْرُ وَالْاَمْنُ وَالسُّکُوْنُ لَمْ تَتَغَیَّرْ لَنَا اللَّیَالِیْ حَتّٰی تَوَفّٰھُمْ الْمَنُوْنُ فَکُلُّ جَمْرٍلَنَا قُلُوْبٌ وَکُلُّ مَائٍ لَنَا عُیُوْنُ (تاریخ بغداد لامام ابی بکر حمد بن علی البغدادی جلد ۷ ص ۲۵۶ ) یعنے ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر روشن چراغ تھے اورقلعے تھے اورشہر تھے اوربادل تھے اورپہاڑ تھے اور امن تھے اورسکون تھے ہمارے لئے۔زمانہ اس وقت تک نہیں بدلا جب تک موت نے ان کو وفات نہیں دی۔