تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 357

مگراب تویہ حال ہے کہ دل انگارا ہے توآنکھیں پانی بہا رہی ہیں۔ا س آگ کے سوا ہمارے پاس کوئی آگ نہیں۔اوراس پانی کے سواکوئی پانی نہیں۔ان اشعار میں نہایت لطیف طور پر بتایاگیاہے کہ روحا نی سردار قلعو ں اور شہروںاو ربادلوں اورپہاڑوںکی حیثیت رکھتے ہیں اوردنیا گویا ان میں بستی ہے اور ان کے ذریعہ سے ان کی حفاظت ہوتی ہے۔تفسیر۔اصحاب الحجر متمدن اور متمول قوم تھی اس آیت میں بتایاگیاہے کہ وہ لو گ پہاڑوں کو کھود کھود کرمکانات بنایاکرتے تھے اوربڑے طاقتور تھے کو ئی ان پر حملہ کی جرأت نہ کرسکتاتھا۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ قوم بڑی متمدن اورمتمول تھی کہ کوئی قوم ان کامقابلہ نہ کرسکتی تھی۔کیونکہ یہ قوم دونوں علاقوں خشکی اورپہاڑی علاقوں میں رہتی تھی۔اٰمِنینَ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ قوم ایسی طاقتور تھی کہ کچھ حصہ سال کا پہاڑوں پر سیر و تفریح کے لئے گزارتی تھی۔مگر باوجود اس کے کسی کو ان کے ملک پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی اوران کے پیچھے ملک میں امن رہتا تھا۔یا یہ کہ وہ امن کی حالت میں پہا ڑ پر جاتے تھے۔کسی گھبراہٹ اورڈرکی وجہ سے اوردشمن سے پناہ لینے کی غرض سے نہیں۔اصحاب الحجر کے پہاڑوں کو کھودنے سے مراد پہاڑ کھو د کر مکان بنانے کایہ مطلب نہیں کہ اس کے سوااورقسم کے ان کے مکان نہ ہوتے تھے بلکہ اس سے خاص عمارتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے ان کے تمدن کی ترقی ظاہرہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ فن تعمیر میں ان کو خاص مہارت تھی اور انہوں نے بعض اپنی قو می عمارات پہاڑ کھود کربنائی تھیں جیسے الیفنٹاکیوز بمبئی میں ہیں وہ بھی پہاڑ کھو دکر بنائی گئی ہیں اورہندوفن تعمیر کی مشہو ریاد گار ہیں باہرسے آنے والے سیاح ان کو دیکھنے جاتے ہیں۔اسی قسم کی بعض عمارتیں فن تعمیر کے اظہار کے لئے معلوم ہوتاہے اس قوم نے بھی بنائی تھیں۔فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِيْنَۙ۰۰۸۴ پھر(وعید کے مطابق)صبح ہوتے (ہی)اس (موعود)عذاب نے انہیں پکڑ لیا۔حلّ لُغَات۔مُصْبِحِینَ :مُصْبِحِیْنَ اَصْبَحَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں دخَلَ فِی الصَّبَاحِ وہ صبح میں داخل ہوایعنی اس پر صبح کا وقت آیا۔فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُصْبِحِیْنَ اَیْ وَھُمْ دَاخِلُوْنَ فی الصَّبَاحِ یعنی ان کو