تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 325
پیداکرتاہے کہ آپ لوگوںکا سفرکوئی خیر کاسفر نہیں۔اس سورۃ میں کھانالانے اوران کے انکار کرنے کے حصہ کو چھوڑ دیاگیاہے۔مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے حضرت ابراہیم ؑ کو ڈر محسوس ہوا یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں چونکہ انہوںنے کھانانہ کھایا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہواکہ شاید مہمانی میں کوتاہی ہوئی ہے اورفرمایا کہ میں تو آپ لوگوں سے ڈرتا ہوں کہ مجھ سے خفاہوگئے ہیں۔قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ۰۰۵۴ انہوں نے کہا (کہ)توخوف نہ کر ہم تجھے یقینا ایک بہت علم (پانے)والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑ کو غلام علیم کی بشارت جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فکر انہوں نے دیکھی تو ایک خبر جو وہ حضرت ابراہیم کے بارہ میں لائے تھے۔انہیں سنائی اورکہا کہ ہمارے سفرکا تکلیف دہ حصہ آپ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ آپ کے لئے توہمیں ایک بشارت معلوم ہوئی ہے کہ آپ کے ہاں اولادہوگی اور ایک بیٹاپیدا ہوگا جو بہت علم والا ہوگا۔یہ امر قابل تعجب نہیں کہ حضرت لوطؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی نسبت ان لوگوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو الہام ہواہو۔کیونکہ کبھی مومن کے لئے دوسرے کو خبر دی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔یَرٰہَاالْمُؤْمِنُ اَوْتُٰری لَہٗ (ترمذی ابواب الرؤیا،باب قولہ ولھم البشریٰ فی الحیوة الدنیا) مومن کبھی خودبشارت پاتا ہے کبھی اس کے لئے دوسرے کو الہاماً خبر بتادی جاتی ہے۔حضرت ابراہیمؑ کے مہمان اس ملک کےتھے جہاں انہوں نے ہجرت کی تھی میرے نزدیک چونکہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ان علاقوں میں مہاجر تھے اورعراق کے علاقہ سے ہجرت کر کے آئے تھے چنانچہ بائبل میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم اُورجو کسدی قوم کے علاقہ میں تھا باشندے تھے (پیدائش باب ۱۱آیت ۲۷و۲۸ نیز باب۱۲آیت ۴) اورجیسا کہ قرآن کریم میں بھی لکھاہے کہ جب حضرت ابراہیم کو ان کی قوم نے دکھ دیا توانہوں نے کہا اِنِّی مُہَاجِرٌ اِلیٰ رَبِّیْ (العنکبوت :۲۷)میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرجائوں گاچنانچہ وہ وہاں سے ہجرت کرکے کنعان کے ملک میں آبسے تھے۔جیسا کہ سورئہ انبیاء میں ہے کہ وَنَجَّیْنَاہٗ وَ لُوْطًا اِلیٰ الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا لِلْعَالَمِیْنَ(الانبیاء :۷۲) یعنی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مخالفت ترقی کرگئی اورآگ تک میں ان کو ڈالا گیا