تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 324
حضرت لوط ؑ کا واقعہ آیا ہے وہاں حضرت ابرہیم کے ذکر سے ہی ان کا ذکر شروع کیاگیاہے۔اوراس سے یہ بتایاگیا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے ماتحت رسول تھے۔حضرت لوط اور ابراہیم ؑ کے واقعات کو بیان کرنے کا مقصد اس واقعہ کو آدم علیہ السلام کے واقعہ کے بعد اس لئے بیان کیاگیاہے کہ اہل مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی ذریت میں سے سمجھتے تھے۔اور حضرت لوط ان کے رشتہ دار تھے پس ایک طرف تویہ بتایاکہ الہام الٰہی حضرت ابراہیم اور حضرت لوط ؑپر بھی نازل ہواتھا۔اور تم ان کے حالات سے واقف ہو۔پھر آج الہام کے متعلق شبہات کیوں پیداکرتے ہوں؟دوسرے انہیں اپنے باپ دادوں کے واقعات سے یہ بتایا گیا کہ وحی الٰہی کا انکار انسان کو سزاکامستحق بنادیتاہے۔اس طرزبیان سے ان لوگوں کا بھی رد ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی ترتیب نہیں۔اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ جب وہ اس کے پاس آئے اورکہا (کہ ہم تمہارے لئے )سلامتی(کاپیغام لائے ہیں)اس نے کہا (کہ )ہم وَجِلُوْنَ۰۰۵۳ (تو)یقیناً تم سے ڈررہے ہیں۔حلّ لُغَات۔وَجِلُوْن۔وجلون وَجِلَ(یَوْجَلُ وَجَلًا)کے معنی ہیں۔خَافَ۔ڈر گیا۔وَفِیْ مُفْرَدَاتِ الرَّاغِبِ اِستَشْعَرالْخَوْفَ اورمفردات میں وَجِلَ کے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ خوف کو محسوس کیا۔اس سے صفت مشبّہ الوَجِلُ ہے جس کے معنے ہیں اَلْخَائِفُ ڈرنے والا۔(اقرب) وَجِلُوْن ا س کی جمع ہے۔تفسیر۔حضرت ابراہیمؑ کے مہمانوں کے چہروں پر رنج و غم کے آثار کی وجہ معلوم ہوتاہے ان کے چہروں پر رنج اورغم کے آثارتھے کیونکہ وہ ایک عذاب کی خبر لے کر آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذہانت سے ان کے قلب کی حالت کو تاڑ لیا۔یایہ کہ جیسا سورئہ ہود میں ذکر آچکا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے لئے کھانالائے انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اندازہ کیا کہ یہ لوگ کسی تکلیف دہ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں اورشائدسمجھا کہ جو یہ خبر لائے ہیں۔وہ ان کے (یعنے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے )لئے بھی تکلیف دہ ہوگی اس وجہ سے انہوں نے کہاکہ آپ لوگوں کا کھانانہ کھانا تو دل میں ڈر