تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 326
جسے اللہ تعالیٰ نے ٹھنڈاکردیا توہم نے ابراہیم علیہ السلام اورلوط کو اس ملک سے نجات دے کر اس زمین میں پہنچا دیا جو برکت والی ہے۔اورقوموں کو اس جگہ برکت ملتی رہی ہے۔یعنے کنعان کاعلاقہ جسے اب فلسطین کہتے ہیں اورجس میں یوروشلم وغیرہ یہود کے مقدس مقامات ہیں (نیز دیکھو پیدائش باب ۱۲آیت ۵)غرض حضرت لوط چونکہ اس علاقہ میں نئے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ حضرت لوط کواپناگائوں چھوڑنے پر تکلیف ہوگی۔ان لوگوںکو جومعلوم ہوتا ہے اسی ملک کے تھے الہام کرکے روانہ کیاتا وہ آئندہ قیام کے متعلق انہیں مشورہ دیں اورتسلی دیں۔حضرت لوط کی قوم کی تباہی کے ساتھ حضرت ابراہیم کو لڑکے کی بشارت دئیے جانے کی حکمت یہ جو فرمایا کہ آپ کو غلامٌ علیم کی بشارت دیتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تسلی کے لئے خبردی۔کیونکہ وہ بہت نرم دل تھے۔فرماتا ہے اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ (التوبۃ:۱۱۴)یعنے حضرت ابراہیم دوسروں کے دکھ کو بہت محسوس کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کے نازک دل کی تسلی کے لئے ان لوگوں کو حکم دیا کہ ابراہیم کوساتھ ہی لڑکے کی بشار ت دیتے جانا جو علیم ہوگا۔تااس کے دل کوتسلی ہوکہ اگراللہ تعالیٰ ایک قوم کوتباہ کررہا ہے تو ایک اورنیک قوم کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے چونکہ سچاعلم نبوت سے حاصل ہوتاہے اس لئے علیم میں حضر ت اسحاق کی نبوت کی بشارت بھی مراد ہوسکتی ہے۔اِنَّا نُبَشِّرُكَ کے الفاظ اس قدرزوردار ہیں کہ ان سے معلوم ہوتاہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ہدایت ملی تھی کہ چونکہ اس ہلاکت و تباہی کی خبر سے حضرت ابراہیم کو صدمہ ہوگا۔اس لئے تم اس کے ساتھ ہی اس کو یہ بشارت بھی دینا۔قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ اس نے کہا (کہ)کیا تم نے مجھے (اب فی الواقع)بشارت دی ہے باوجوداس کے کہ مجھ پر بڑھاپاآچکا ہے پس تُبَشِّرُوْنَ۰۰۵۵ بتائو کہ کس بناپر تم مجھے (یہ) بشارت دیتے ہو۔تفسیر۔فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَمیں خبر کی بناءکے متعلق سوال ہے حضرت ابراہیم نے کہا میں تو اب بہت بوڑھا ہوچکاہوں پس یہ تمہاری خبرضرورالہامی ہے اگرایساہے تو مجھے بھی بتائو فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَکے اس جگہ یہ معنی نہیں کہ تم مجھے کس امر کی بشارت دیتے ہو۔بلکہ یہ ہیں کہ تم کس حق کی بناء پر یہ بشارت دیتے ہو۔تمہاری اس خبر