تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 323
ہوں یا بد ان سب کو اطلاع دے دو کہ میں غفور ہوں۔اوررحیم ہوں یعنی گناہ گاروں کو تسلی دو۔گھبرائیں نہیں۔اوراس خیال سے مایوس نہ ہوں۔کہ بہت گناہ ہوئے اب کیاہو سکتا ہے۔میں غفورہوں ان کے سب گناہ بخش سکتا ہوں۔اورمومنوں سے کہہ دو کہ وہ نیکی کرکے بس نہ کردیں۔اوریہ خیال نہ کریں کہ جو کمال ہم نے حاصل کرناتھا کرلیا۔کیونکہ میں رحیم ہوں میں بار بار رحم کرنے والاہوں۔وہ جس قدر بھی نیکی میں ترقی کرتے جائیں گے میرارحم اوربڑھتاجائے گاپس انہیں نیکیوں میں ترقی کرتے رہناچاہیے۔وَ اَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ۰۰۵۱ اور(یہ)کہ میراعذاب ہی (حقیقتاً) دردناک عذاب(ہوتا)ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْعَذَابُ۔العَذَابُ کُلُّ مَاشَقَّ عَلَی الْاِنْسَانِ وَمَنَعَہٗ عَنْ مُرادِہِ۔عذاب کے معنی ہیں جو انسان پر شاق گذرے اورحصول مراد سے اسے روک دے وَفِی الْکُلِّیَّات کُلُّ عَذَابٍ فِی الْقُرْآنِ فَھُوَ التَّعْذِیْبِ اِلَّا وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَۃٌ فَاِنَّ الْمُرَادَ الضَّرْبُ۔اورکلیات میں لکھا ہے کہ عذاب سے مراد قرآن مجید میں عذاب دیناہوتاہے سوائے آیت وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا کے۔وہاں سزامراد ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرمایا میرے عذاب کے مقابلہ میں کسی دوسرے کاعذاب۔عذاب کہلانے کامستحق ہی نہیں۔کیونکہ اول تو وہ عارضی ہوتاہے دوسرے اس سے بچنے کاایک ذریعہ یعنے اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے۔لیکن جب عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے توپھر کوئی پناہ باقی نہیں رہتی۔ا س صورت میں تو لَامَلْجَائَ وَلَامَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ ہی کہنا پڑتا ہے۔وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَۘ۰۰۵۲ اورانہیں ابراہیم کے مہمانوںکے متعلق (بھی )آگاہ کر۔تفسیر۔حضرت لوط ؑ کا ذکر حضرت ابراہیم ؑ کے ذکر سے شروع کیا جاتا ہے ا س جگہ دراصل حضرت لوط ؑ کا ذکر شروع کرنا تھا۔مگر جیساکہ میں بتاچکاہوں ہمیشہ حضرت ابراہیم کے ذکر سے ہی حضرت لوط ؑ کا ذکر شروع کیا جاتا ہے۔اتفاقی طور سے نہیں بلکہ یہ ذکر عمدًاکیا جاتا ہے۔چنانچہ جہاں کہیں تفصیلی طور پر