تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 322
چونکہ اس عارضی فنا کے نتیجہ میں جو تکان کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہے انسان کو موت آتی ہے۔کیونکہ آہستہ آہستہ جسم کی قوتیں ضائع ہوجاتی ہیں اورجنت میں اس قسم کے نقصان کی نفی فرمائی ہے۔اس لئے فرمایا کہ وہ وہاں سے نکالے نہ جائیں گے یعنی اب ان کے لئے کوئی موت نہیں۔جنت کی نعماء انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا یاد رہے کہ جنت ایک روحانی مقام ہے اورگوتمثیلی زبان میں اس نعماء کو دنیا کی نعما ء سے مشابہت دی گئی ہے۔لیکن درحقیقت اس کی نعمتیں ایسی ہیں کہ انسانی دما غ انہیں سمجھ ہی نہیں سکتا۔اس آیت میں درحقیقت اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں توانہیں شیطانوں سے جدوجہدکرنی پڑتی تھی۔وہاں وہ اس جدوجہد سے بالکل بچ جائیں گے۔اور ان کے دل ہرکوفت سے محفوظ ہوجائیں گے اورنہ عارضی طور پر شیطان ان کو نقصان پہنچاسکے گا نہ مستقل طورپر۔جنت کام کرنے کی جگہ ہے نہ کہ عیش کا مقام اس آیت سے یہ بھی استدلال ہوتاہے کہ جنت سست الوجودوں کی سرائے نہیں۔بلکہ اس میں رہنے والے بھی کام کریں گے کیونکہ اگر کام نہ کرنا ہوتاتوتکان کی نفی کی کیا ضرورت تھی ؟ پس جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنت ایک کھانے پینے اورعیش کرنے کا مقام ہے وہ غلطی کرتے ہیں۔جنت توعبودیت کا اصل مقام ہے۔جیسے فرمایا فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ( الفجر:۳۰،۳۱) یعنے کامل عبودیت کا مقام جنت میں داخلہ کے وقت حاصل ہوگا اورعبد کام کیاکرتاہے نہ کہ سست بیٹھتا ہے۔پس اصل کام کا مقام توجنت ہی ہے جہاں انسان کامل عبد ہوجائے گا۔جنت کاسارا مزہ اس میں ہے کہ جذبات کی کشمکش سے آزاد ہو کر انسان اپنی عبادات میں لذت ہی لذت محسوس کرے گا اورجس کام میں لذت حاصل ہو اس میں تکان محسوس نہیں ہوتی۔عام طورپر مسلمان جنت کا نقشہ پُؤرہائو س(مسکینوں کے رکھنے کی جگہ)کاسمجھتے ہیں۔کہ کام کچھ نہ کریں گے کھانامفت ملتا رہے گااورکوئی وہاں سے باہر بھی نہ نکالے گا۔لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّيْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُۙ۰۰۵۰ (اے پیغمبر)میرے بندوں کو آگاہ کردے کہ میں بہت ہی بخشنے والا(اور)بارباررحم کرنے والاہوں۔تفسیر۔غفور کے بعد صفت رحیم لانے کی وجہ اَنَاالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔اس جگہ عِبَادِیْ کالفظ عام معنوں میں استعمال کیاگیا ہے اورنیک اوربد سب بندے اس میں شامل ہیں۔فرمایا ہے کہ میرے بندے نیک