تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 321

گا۔دوسروں کی محکومی سے نجات مل جائے گی اورصرف خدا تعالیٰ کی بادشاہت ہو گی۔جس کاحکم بوجھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی اطاعت قوت وشان کو بڑھانے والی اورحقیقی آزادی دینے والی ہوتی ہے۔قرآن مجید میں آتا ہے لَھُمْ فِیْھَا مَا یَشَاءُ وْنَ ( النحل:۳۲) جنت میں ان کی ہر ایک خواہش پوری کی جائے گی گویااپنے اپنے دائرہ میں ہر اک کاقانون نافذ ہوگا۔اوریہی مفہو م بادشاہت کا ہے۔لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۰۰۴۹ نہ انہیں ان میں کو ئی تکان ہوگی اورنہ انہیں ان سے کبھی نکالاجائے گا۔حلّ لُغَات۔نَصَبٌ نَصَبٌ نَصِبَ(یَنْصَبُ) کا مصدر ہے۔اورنَصِبَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں اَعْیَا۔تھک گیا (لازم)نَصِبَ فِی الْاَمَرِ۔جَدَّ وَاجْتَہَدَ۔کسی کام میں کوشش اورمحنت کی (اقرب)پس النَّصَبُ کے معنے ہوں گے تکان۔تفسیر۔لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌسے یہ بتایا ہے کہ جنت میں بھی انسان کام کریں گے فرمایا ان کو جنت میں نہ کسی قسم کی تکان پہنچے گی اورنہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں بھی انسان کام کر یں گے۔لیکن فرق یہ ہوگا کہ وہاں فنا نہ ہو گی۔کیونکہ تکان فنا کی علامت ہوتی ہے تکان کے معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کے جسم سے کچھ ذرات چربی یا اور کسی مفید جزو کے نکل گئے ہیں۔اورتکان کام چھوڑنے اورآرام کرنے کے لئے طبیعت کا اعلام ہوتاہے یا غذاکھانے کے لئے۔میں نے ایک طب کی کتاب میں پڑھا ہے کہ ہاتھ کی ایک حرکت میں انسانی جسم کے کئی ملین سیل ضائع ہوجاتے ہیں۔پس کچھ مدت کام کرنے کے بعد جب تکان محسوس ہوتی ہے وہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ جسم سے کافی طاقت ضائع ہوچکی ہے اب اس نقصا ن کا ازالہ کرو۔تھکان تحلیل جسم کا نتیجہ ہے جنت میں تحلیل جسم نہ ہوگی پس تکان فنا کی علامت ہے اوریہ کہہ کر کہ وہاں تکان نہ ہوگی یہ بتایا ہے کہ وہاں تحلیل جسم نہ ہوگی۔اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ غذاجو بدل مایتحلل کے طورپرہوتی ہے وہاں ا س کا کام یہ نہ ہوگا کہ فنا شدہ کو پھر قائم کرے بلکہ مزید طاقت دینا کام ہوگا گویااس زندگی میں قدم پیچھے کسی طرح نہ ہٹے گا صرف آگے ہی بڑھناہوگا۔