تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 316

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ جو میرے بندے ہیں ان پر تیراہرگزکو ئی تسلط نہیں ہوگا۔سوائے ایسے افراد کے جو تیر ے مِنَ الْغٰوِيْنَ۰۰۴۳ پیچھے چلیں یعنی گمرا ہ ہو ں۔حل لغات۔سُلْطٰن سُلْطٰنٌکے معنی ہیں دلیل۔قبضہ۔طاقت۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورئہ ابراہیم آیت نمبر ۱۱۔تفسیر۔اس آیت میں دوسرے محفوظ گروہ کا ذکرکیا ہے۔جو نبوت کے مقام پر تونہیں ہوتا۔یابراہ راست ایمان توحاصل نہیں کرتا۔لیکن نبیوںکے طفیل یا دوسرے خدارسیدوںکے طفیل صداقت کو پالیتا ہے ان کے متعلق فرمایاکہ ان کو بھی اس قدر حفاظت حاصل ہوتی ہے کہ شیطان کو ان پر تسلط حاصل نہیں ہوتا۔بیشک شیطان ان پرحملہ کرتا ہے لیکن اس کاحملہ بہت کمزورہوتاہے اوران کو اس کے مقابلہ کی طاقت ہو تی ہے۔اس لئے وہ بھی بالعموم بچ جاتے ہیں۔ہاں! ان میں سے بعض جوایمان کو پوری طرح حاصل نہیں کرتے اورا ن کے ایما ن کی بنیاد کامل یقین پر نہیں ہوتی بلکہ ابھی کمزوری ان میں باقی ہوتی ہے اوروہ کبھی کبھی شیطا ن کی پیروی کرلیتے ہیں۔یعنی گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں ان کے لئے خطر ہ ہوتاہے کہ کبھی شیطان کے حملہ کا شکارہوجائیں اور شیطان کو ان پر تسلط حاصل ہوجائے مگر یہ تسلط بھی ان کی اپنی کمزوری کی وجہ سے ہوتاہے اورگناہوں کے ارتکاب کے بعد ہوتاہے۔ورنہ شروع میں وہ بھی حفاظت الٰہی میں ہوتے ہیں۔اس میں اس طرف بھی اشار ہ ہے کہ انسانی فطرت پاک ہے اور وہی گمراہ ہوتاہے جو خود اس فطرت کو خراب کرکے شیطان کے پیچھے چل پڑے اسی کی طرف اشار ہ ہے اس آیت میں کہ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا (الشمس:۱۱)وہی ہلاک ہو تاہے جو اپنے نفس کو خراب کردیتا ہے اورگناہ کی مٹی میں دفن کردیتاہے۔