تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 297
قرآن کریم میں کیاگیاہے۔وہ انسان ہی تھے کوئی اورمخلوق نہ تھے۔قرآن کریم میں لفظ جن کا استعمال خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم میں جنّ کئی معنوں میں استعمال ہواہے۔جنّ کے لفظ کا استعمال مخفی اور غیر مرئی مخلوق کے لئے (۱)جنّ وہ تمام مخفی مخلوق جو غیر مرئی شیطان کی قسم سے ہے یہ مخلوق اسی طرح بدی کی تحریک کرتی ہے جس طرح ملائکہ نیک تحریکات کرتے ہیں۔ہاں یہ فرق ہے۔کہ ملائکہ کی تحریک وسیع ہوتی ہے اوران کی تحریک محدود ہوتی ہے۔یعنی ان کو زور انہی پر حاصل ہوتا ہے جوخود اپنی مرضی سے بدخیالات کی طرف جھک جائیں۔انہیں شیاطین بھی کہتے ہیں۔جنّ سے مراد زیر زمین رہنے والے (۲)جنّ سے مراد قرآن کریم میں CAVE MEN بھی ہے۔یعنے انسان کے قابل الہام ہونے سے پہلے جو بشر زیر زمین رہاکرتے تھے۔اور کسی نظام کے پابند نہ تھے۔ہاں آئندہ کے لئے قرآن کریم نے یہ اصطلاح قراردے لی۔جولوگ اطاعت کامادہ رکھتے ہیں۔ان کانام انسان رکھا۔اورجو لوگ ناری طبیعت کے ہیں اوراطاعت سے گریز کرتے ہیں ان کانام جنّ رکھا۔جنّ سے مراد شمالی علاقہ کے لوگ (۳)شمالی علاقوں کے وہ لوگ یعنے یورپ وغیرہ کے جو ایشیا کے لوگوں سے میل ملاپ نہ رکھتے تھے۔اورجن کے لئے آخر زمانہ میں حیرت انگیز دنیوی ترقی اورمذہب سے بغاوت مقدر تھی۔ان کا ذکر سورئہ رحمٰن میں کیا ہے۔غیر مذاہب کے لوگوں اور اجنبیوں کے لئے لفظ جن کا استعمال (۴)غیر مذہب کے لوگوں کو اوراجنبیوں کو جنہیں بعض اقوام جیسے ہندو اوریہودکوئی نئی مخلوق سمجھتے تھے۔ان کو عام محاورہ کے مطابق پر جنّ کے نام سے موسوم کیا ہے جیسے حضرت سلیمان کے جنّ یارسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے والے لوگ۔میرے نزدیک دوزخ میں جانے والے جن جنّات کا ذکر آتا ہے ان سے مراد یاتووہی ناری طبیعت والے لوگ ہیں جواطاعت سے باہر رہتے ہیں۔اور کسی مذہب یاتعلیم کو قبول نہیں کرتے۔اورانسان دوزخیوں سے مراد وہ کفار ہیں جو کسی نہ کسی مذہب سے اپنے آپ کو وابستہ کرتے ہیں۔یاپھر اقوام شمال مغرب کو جنّ قرار دیا ہے اورجنوبی دنیا اورمشرق کے لوگوں کو اِنس قراردیا ہے۔جیساکہ عرف عام میں یہ لوگ ان ناموں سے مشہور تھے۔یہ جو فرمایاکہ وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو ہم جنّ کہتے ہیں۔ان کی طبیعت میں ناری مادہ تھا یعنے جلد اشتعال میں آجاتے تھے اوراطاعت برداشت نہیں کرسکتے تھے۔حضرت آدم سے پہلے بشر کی حالت یہی تھی۔حضرت آدم پہلے انسان تھے۔جنہوں نے اخلاقی اور تمدنی کمال حاصل کیا۔اس وجہ