تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 298

سے الہام جس کاتعلق تمدن اوراخلاق سے ہے سب سے پہلے آپ ہی پر نازل ہوا۔پس جو لوگ اس تمدن اورنظام میں شامل ہوئے انہوں نے گویا اپنے نفسوں کو ما ر دیا۔اوراللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نقش اپنے دلوں پر کندہ کروالیا۔پس وہ طینی کہلائے۔کیونکہ طین نقش قبول کرتی ہے۔اورجن لوگوں نے نظام میں آنے کی نسبت انفرادی آزادی کو مقد م رکھا اور کسی کی اطاعت کا جواگردن پر رکھنے سے انکار کیا وہ ناری کہلائے۔یعنی جس طرح آگ کاشعلہ قابو میں نہیں آتا۔اسی طرح وہ بے قابو ہوگئے۔اوربوجہ زمین کے اندر رہنے کے وہ جنّ بھی کہلائے۔جنوں کے آگ سے پیدا ہونے سے مراد ناری طبیعت اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ توفرماتا ہے خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ۔جنوں کو آگ سے بنایا۔پھر تم کس طرح کہتے ہو کہ اس سے مراد ناری طبیعت ہے ؟تواس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الانبیاء:۳۸) جس کے لفظی معنے ہیں انسان کو (اللہ تعالیٰ نے)جلدی سے پیدا کیا۔محقق مفسرین لکھتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں عجلت اورجلدبازی ہے یہ نہیں کہ جلدی نام کسی مادہ کا ہے جس سے انسان کو بنایاگیاہے۔اوروہ لکھتے ہیں کہ یہ عربی کاعام محاورہ ہے کہ جوشے کسی کی طبیعت میں داخل ہو۔اس کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ اس سے پیدا کیاگیاہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ(الروم:۵۵)یعنے خدا تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو اس حالت میں پیدا کیا ہے کہ تمہاری طبیعت میں کمزوری ہوتی ہے۔یعنی پیدائش کے وقت بچہ کمزورہوتاہے اور دوسرے کی امداد کا محتاج ہوتاہے۔ا س آیت کے بھی یہ معنی نہیں کہ ضعف کوئی مٹی یالکڑی کی قسم کی شے ہے جس سے خدا تعالیٰ نے انسان کو بنایاہے۔جنات کا انسانوں پر غلبہ پانا غلط ہے یہ تعلیق ختم کرنے سے پہلے میں یہ بھی بتادینا چاہتاہوں کہ کئی پرانے بزرگ کم سے کم اس خیال میں میرے ساتھ شریک ہیں۔کہ وہ جنّ کوئی نہیں ہوتے جو انسانوں سے آکر ملیںاوراس پر سوا ر ہوجائیں اوران سے مختلف کام لیں۔چنانچہ علامہ ابن حیّان اپنی تفسیر بحرمحیط کی جلد پانچ ص ۴۵۴ پر لکھتے ہیں۔کہ جبائی کاقول ہے۔کہ یہ آیت (اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ جوآیت زیر تفسیر کے چند آیات بعد ہی ہے ) ان لوگوں کے دعووں کو رد کردیتی ہے۔جن کایہ خیال ہے کہ شیطان اورجنّوںکے لئے ممکن ہے کہ انسانوں پر غلبہ پالیں۔اوران کی عقلوں کو خراب کردیں۔جیساکہ عام لوگوں کا عقیدہ ہے۔اوربعض دفعہ عوام ان امو ر کو جادوگروں کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں۔اوریہ سب دعوے اللہ تعالیٰ کی نصّ صریح کے خلاف ہیں۔اگرکہا جائے کہ بعض بزرگوں نے جنات کا ذکر کیا ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ روحانی نظارے ہیں