تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 296
نہیں ہے حضرت مسیح علیہ السلام کاایک واقعہ انجیل میں بیا ن ہواہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسری اقوام کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کی اجازت تک نہ دی بلکہ جب ان سے ایک غیر قوم کے آدمی نے تبلیغ کرنے کے لئے کہا۔توآپ نے فرمایا’’کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں‘‘(متی باب ۱۵آیت ۲۶)پس یہ بھی درست نہیں۔کہ وہ اپنی مرضی سے ایمان لے آئے تھے۔کیونکہ اگر جن کو ئی مکلف قوم ہے۔توا س کے لئے صرف اس نبی پر ایمان لانا فرض ہے جو مِن انفسہم ہو۔موسیٰ علیہ السلام پر ایما ن لانا ان کے لئے جائز نہ تھا۔غرض قرآن کریم کی آیات اور مذکورہ حدیث کے رُو سے کم سے کم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جنوں کے لئے الگ نبی مبعوث ہونے ضروری تھے۔جو خود ان میں سے ہوتے۔نیز جنوں کی مختلف قوموں کی طرف الگ الگ نبی مبعوث ہونے ضروری تھے۔مومن جنات کے انسان ہونے کی ساتویں دلیل ساتواں ثبوت ان جنات کے انسان ہونے کایہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کادعویٰ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے۔یٰٓااَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔(الاعراف :۱۵۹) آنحضرت ؐ کا دعویٰ صرف انسانوں کی طرف مبعوث ہونے کا تھا اس جگہ جنوں کو رسالت میں شامل نہیں کیا۔اگرجن بھی کو ئی علیحدہ قوم ہے۔اوراس کے لئے بھی آپ پر ایما ن لا نا ضروری تھا یاجائز ہی تھا۔تویوں فرماناچاہیے تھاکہ یٰٓااَیُّھَاالنَّاسُ وَالْجِنُّ اِنِّی رَسُوْ لُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا مگر یہ تو قرآن کریم میں کہیں بھی نہیں آیا پس جو جن آپؐ پر ایمان لائے وہ قرآنی تشریح کے ماتحت انسانوں ہی میں سے تھے۔اوراسی وجہ سے آپؐ پر ایمان لانے کے مکلف تھے۔ایک اورآیت اس مضمون کے بارہ میں اس سے بھی واضح ہے۔اوروہ سورئہ سبا کی آیت وَمَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ ہے (سبا : ۲۹) کَافَّۃ کَفَّ سے نکلا ہے جس کے اصل معنے جمع کرنے اورروکنے کے ہیں۔پس آیت کے معنی یہ ہوئے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے صرف اس لئے مبعوث کیا ہے۔کہ تو انسانوں کو جمع کرے اور کسی انسان کو اپنی تبلیغ سے باہر نہ رہنے دے۔اب دیکھو! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تجھے صرف انسانوں کوجمع کرنے کے لئے بھیجا ہے۔اوربعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انسانوں کے سواکوئی اورمخلوق بھی ہے اوروہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی مکلف ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انسانوں میں سے کوئی آپ کی دعوت سے باہر نہیں انسانوں کے سوا کوئی مخلوق آپ پر ایمان لانے کے لئے مکلف بھی نہیں۔اس وجہ سے جن مومن جنّوں کا ذکر