تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 279

انسانی پیدائش کی مختلف کڑیوں کا ذکر پس معلوم ہواکہ خشک مٹی ابتدائی کڑی ہے مگر سورہ حجر میں اس ابتدائی ذکر کو چھو ڑ کر اس کے بعد کی حالت کو بیان کردیاگیا ہے۔سورۃ فاطرع۲ میں اوربھی فرق کردیاگیا ہے وہاں فرماتا ہے۔وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ (فاطر:۱۲)یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو خشک مٹی سے پیدا کیا ہے پھر اس کے بعد نطفہ سے۔اس آیت میں اول توحمائٍ مسنون کو ترک کردیاہے۔دوسرے تراب کے بعد پیدائش کی ایک اورکڑی بیان کی ہے جو نطفہ ہے۔سورہ مومن میں اس سے بھی مختلف پیرایہ میں پیدائش کا طریق بتایا ہے۔فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا (المؤمن:۶۸) کہ نطفہ کے بعد بھی یکدم انسان نہیں بنا۔بلکہ اس کے بعد ایک اورتغیّر ہواہے اوروہ یہ کہ نطفہ علقہ بنا اورپھر اس سے انسان بنا۔انسانی پیدائش مختلف حالات سے گزر کر ہوئی مگر سورئہ حج میں اس میں بھی زیادتی کردی گئی ہے اورفرمایا ہے فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَ غَیْرَ مُخَلَّقَۃٍ (الحج:۶) کہ علقہ کے بعد بھی یکدم انسان نہیں بنا بلکہ اس کے بعد ایک اوردرجہ ہے یعنی علقہ سے مضغہ بنتاہے اوروہ مضغہ بھی دوطرح کاہوتاہے کامل اورغیر کامل پھراس سے انسان بنا۔مگراس پر بھی بس نہیں۔سورئہ مومنون میں ان کڑیوں پر اورزیادتی کی گئی ہے فرماتا ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ۔ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ۔ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ۔(المؤمنون:۱۳ تا ۱۵) یہاں پر تین کڑیاں زائدبیان کی ہیں اوربتایاہے کہ مضغہ کے بعد بھی یکدم انسان نہیں بنا بلکہ پہلے عظام بنتی ہیں پھر عظام پر گوشت چڑھایاجاتاہے پھر ایک اورپیدائش ہوتی ہے کہ ان بظاہر بے جان مادوں سے ایک جاندار شے پیداہوجاتی ہے۔ان آیات پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم بعض دفعہ درمیانی وسائط کوچھوڑ دیتا ہے پس حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک مٹی کا ایک بت بنا کر اس میں روح ڈال دی گئی تھی اوروہ چلتا پھرتاانسان بن گیاتھا بلکہ قرآن کریم کی تعلیم سے ظاہر ہے کہ انسانی پیدائش مختلف حالات سے گذر کر ہوئی اورمٹی کے الفاظ دیکھ کر یہ نتیجہ نہیں نکال لینا چاہیے کہ انسان فورًامٹی سے گھڑ کر بنادیاگیاتھا(جیسے کہ عوام کا خیال ہے)بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ مٹی سے ابتداہوئی اوریہ امر یقینی طورپر ثابت ہے کیونکہ انسان اب بھی اپنی غذامٹی سے ہی حاصل کرتاہے اور کسی چیز کی غذااسی سے لی جاتی ہے جس سے وہ چیز بنی ہو۔ورنہ غذاغذاہی نہیں بن سکتی۔مثلاً لوہا اگر گھس جائے تو اس کی جگہ لوہا ہی لگایاجائے گا دوسری چیز اس کاکام نہیں دے سکتی۔پس ہماری غذاچونکہ مٹی کے اجزاء سے بنتی ہے یہ