تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 278

ہوئی ہے۔آیت مِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے انسان کی ابتداء کی طرف اشارہ نہیں یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سائنس کا یہ دعویٰ کہ حیوانی مادہ حیوان سے ہی پیداہو سکتا ہے۔خود قابل تحقیق ہے کیونکہ اس کی دلیل صرف ہماراموجودہ مشاہدہ ہے اوریہ امر ظاہر ہے کہ جس وقت یہ حیوانی مادہ پیداہوااس وقت کے حالات اورموجودہ حالات میں بڑافرق ہے۔سائینس بھی اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ یہی حیوانی مادہ کسی وقت میں ترقی کرکے انسان بن گیاتھالیکن اب ویسا نہیں ہوتا پس اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ابتدائے آفرینش کے حالات میں اوراس وقت کے حالات میں بہت بڑا تغیر ہے۔اس وقت زندگی پیداکرنے کی رَو نہایت ہی تیزتھی اوراب اتنی نہیں۔پس ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے ماتحت بے جان ذرات ہی بعض تغیرات کے ماتحت زندہ ذرات میں تبدیل ہوجاتے ہوں اوربعد میں زمین کے کامل ہوجانے پر وہ حالات نہ رہے ہوں۔پس متفرق حالات کا ایک دوسرے پر قیا س کرنا سائینس نہیں کہلاسکتا۔مٹی سے یکدم انسان نہیں بنا یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ مٹی سے یکدم انسان بن گیا کیونکہ قرآن کریم خلق عالم کی تدریجی پیدائش پر بار بار زور دیتا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ تناسل والی خلق میںبھی (قرآن میں اَللّٰہُ یَبْدَءُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (یونس:۳۵) فرماکر دوحلقوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے )تدریج پائی جاتی ہے (یہ نہیں ہوتا کہ ادھر میاںبیوی ملیں تو ادھر بچہ پیداہوجائے)توکیوں پہلی خلقت میں تدریج نہ ہوگی؟ پس اس آیت میں صرف اس ابتداء کی طرف اشارہ ہے جس وقت حیوانی قابلیتوں سے ترقی کرکے انسان میں اس کی امتیازی قابلیت پیداہوئی اوروہ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ کی صلصال والی حالت ہی تھی یعنی جس میں قبولیت الہا م کا مادہ پیداہوایایہ سمجھیں کہ صرف اس کی اس ابتداء کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں سے اس کی حیات محض شروع ہوئی تھی۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ کیونکر تسلیم کیاجائے کہ اس سے انسانی یاحیوانی پیدائش کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے اورکیوںنہ سمجھاجائے کہ قرآن کریم کے نزدیک انسان کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہی اسی طرح تھی کہ مٹی کا پُتلابنایا اور اس میں جان ڈال دی تو اس کا جواب یہ ہے کہ خودقرآن کریم سے ثابت ہے کہ اس آیت میں ابتداء کا ذکر نہیں چنانچہ سورئہ روم ع۳ میں آتاہے اَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَا اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (الروم :۲۱)کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خشک مٹی سے پیدا کیاہے پھر تم بشر بن گئے اوردنیا بھر میں پھیل گئے۔اب یہ امر آیت زیر تفسیر کے خلاف ہے کیونکہ اس میں حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے پیدائش انسانی لکھی ہے اوراس آیت میں تراب یعنی خشک مٹی سے لکھی ہے۔