تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 280
ظاہر ہے کہ ہماری پیدائش بھی اسی قسم کے اجزاء سے ہے جو مٹی کے تیار کرنے میں خرچ ہوئے ہیں اورانسان پیدائش عالم کی آخری ارتقائی کڑی ہے کوئی باہر سے آئی ہوئی شے نہیں۔میں اس جگہ انسانی پیدائش پر تفصیلی بحث نہیں کرتا اس کا مناسب مقام سورئہ بقرہ یاسورئہ اعراف کی آیا ت ہیں۔وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ۰۰۲۸ اور(اس سے) پہلے جنّوں کو یقیناً ہم نے سخت گرم ہواکی (قسم کی )آگ سے پیدا کیاتھا۔حلّ لُغَات۔اَلْجَانَّ:الجَانَّ جَنَّ یُجُنُّ جَنًّاوَ جُنُوْنًا کے معنے ہیں۔سَتَرَ ہٗ وَاَظْلَمَ عَلَیْہِ پردہ ڈال دیااوراندھیرکردیا۔جَنَّ الَّیْلُ:اَظْلَمْ وَاخْتَلَطَتْ ظُلْمَتُہٗ۔رات کی تاریکی چھا گئی۔وَجَنَّ الْجَنِیْنُ فِی الرَّحْمِ اِسْتَتَرَ۔جنین رحم میں پوشیدہ ہوگیا۔وَالْـجَانُّ اِسْمُ فَاعِلٍ اور جانّ اسم فاعل ہے یعنی اندھیرا کردینے والا۔یاپوشیدہ ہوجانے والا۔وَاِسْمُ جَمْعٍ لِلجِنِّ۔اوریہ جنّ کی اسم جمع بھی ہے۔حَیَّۃٌ بَیْضَاءُ کَحْلَاءُ الْعَیْنِ لَاتُؤْذِیْ۔اوراس سفیدسانپ کو بھی جو سرمگین آنکھوں والاہو جانّ کہتے ہیں۔ایسے سانپ میں زہر نہیں ہوتااوروہ کاٹتا نہیں (اقرب) وَالْجَانَّ اَبُوْالْجِنِّ اورجنّوں کے مورث اعلیٰ کوبھی جانّ کہتے ہیں۔(تاج) السّموم:السَّمُوْمُ سَمَّ یَسُمُّ سَمًّا سے اسم ہے۔سَمَّ الطَّعَامَ کے معنے ہیں۔جَعَلَ فِیْہِ السَّمَّ کھانے میں زہر ڈال دیا۔سَمّ الْاَمْرَ کے معنے ہیں۔سَبَرَہُ ونَظَرَ غَوْرَہُ کہ معاملہ کی تحقیقات کی اوراس کی حقیقت معلوم کی۔سَمَّتِ الرِّیْحُ سُمُوْمًا۔اَحْرَقَتْ گرم ہوانے چیزوں کو جھلس دیا۔والسَّمُوْمُ:الرِّیحُ الحارَّۃُ ،سموم گرم ہواکوبھی کہتے ہیں۔اس کی جمع سَمَائِمُ ہے۔وَقَالَ اَبُوْعَبِیْدَۃَ السَّمُوْمُ بِالنَّہَارِ وَقَدْ تَکُوْنُ بِاللَّیْلِ۔اورابوعبیدہ نے کہاہے کہ سموم دن کو ہوتی ہے اور کبھی کبھی رات کو بھی۔اَلْحَرُّالشَّدِیْدُ النَّافِذُ فِیْ الْمَسَامِّ اورسموم اس شدت گرمی کو بھی کہتے ہیں جو مسامات میں گھس جانے والی ہو۔(اقرب) محیط میں لکھا ہے کہ ابن عباسؓ نے کہاہے سموم اس شعلہ والی آگ کو کہتے ہیں۔جس میں دھواں نہ ہو یعنی شعلہ والی آگ یاانگارہ والی(بحر محیط زیر آیت ولقد خلقنا الانسان من صلصال)۔ان سارے معنوں کو مدنظر رکھیں تومعلوم ہوتاہے کہ اَلسَّمُوْمُ اس چیز کو کہتے ہیں جو باریک طور پر اند ر گھس جائے اورپھر اثر کرے۔سمّ(زہر)کو بھی سَمّ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی عروق کے ذریعہ جلد انسان کے جسم میں سرایت کرجاتا ہے اورفورًاانسانی زندگی کا خاتمہ کردیتاہے چنانچہ بعض ایسے زہر بھی ہیں جو صرف سونگھنے