تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 267
وَ اَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً اورہم نے (بخارات کو)اُٹھانے والی ہوائیں (بھی تمہارے لئے )چھوڑ رکھی ہیں۔اور(انکے ذریعہ سے )ہم نے فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ۰۰۲۳ بادلوں سے پانی اُتاراہے۔پھر وہ تمہیں پینے کو دیاہے اور تم (خود) اسے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔حلّ لُغَات۔لَوَاقِحَ۔لَوَاقِحَ یُقَالُ لَقِحَتِ النَّاقَۃُ لَقَاحًا وَکَذَالِکَ الشَّجَرۃُ۔اونٹنی حاملہ ہوگئی اوردرخت ثمردار ہوگیا۔وَاَلْقَحَ فُلَانٌ النَّخْلَ کھجور کے نرومادہ کو ملایا۔وَاَرْسَلْنَاالرّیَاحَ لَوَاقِحَ اَیْ ذَوَاتِ لَقَاحٍ۔یعنی لَوَاقح کے معنے ہیں۔وہ ہوائیں جو درختوںسے نرکامادہ لے کر درختوں تک پہنچاتی ہیں (مفردات) اللَّوَاقِحُ مِنَ الرِّیَاحِ الَّتِیْ تَحْمِلُ النَّدَی ثُمَّ تَمُجُّہُ فِی السَّحَابِ فَاذَااجْتَمَعَ فِی السَّحَابِ صَارَ مَطَرًا۔لَوَاقِح ان ہوائوں کو کہتے ہیں۔جوزمین پر سے اُٹھنے والے بخارات کو لے کر چلتی ہیں۔پھر بادلوں میں ان کو ملادیتی ہیں۔(اقرب) تفسیر۔لوَاقِح سے مراد لوَاقِح ان ہوائوں کو کہتے ہیں جو درختوں میں سے نرکامادہ لے کر درخت تک پہنچاتی ہیں۔اوراس طرح درختوںکو پھل آتاہے۔اسی طرح ان ہوائوں کوبھی لواقح کہتے ہیں جو زمین پر سے اُٹھنے والی رطوبت کو لے کر اُڑتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ بادلوں کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں لَوَاقِح سے مراد پانیوں کو جمع کرکے بادل بنانے والی ہوائیں ہوں۔اوریہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی معنے اس جگہ مراد ہوں یعنے ہم وہ ہوائیں بھی چلاتے ہیں جو نردرختوں کامادہ مادہ درختوںپر ڈال کرانہیں پھل لانے کے قابل بناتی ہیں اوروہ ہوائیں بھی چلائی ہیں جو زمینی رطوبتوں کو جمع کرکے بادل کی صورت میں تبدیل کردیتی ہیں اورزمین پر بادلوںکو برساکر ان درختوںکو جو پہلی قسم کی ہوائوں کے ذریعہ سے نرومادہ کا میل کرچکے ہیں کثرت سے پھلدار بناتی ہیں آخر میں یہ بتایا کہ پانی کیسی ضروری شے ہے اور کبھی عام مگرانسان اسے بھی محفو ظ نہیں رکھ سکتا پھر روحانی امور میں وہ کیو نکر اپنے آپ کو محافظ کے مقام پر کھڑاکرنا چاہتاہے۔کفار کے اس شبہ کا جواب کہ پہلی کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے اس آیت میں حفاظت کلام الٰہی کے بارہ میں کفار اورمسلمانوں دونوں کو مخاطب کیاگیا ہے۔کفار کے اس شبہ کا جواب دیاگیا ہے