تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 266

نَازِلًا اس کو اترنے والا کردیا۔یعنی ایسی حالت میں کردیا کہ اُترے۔القومَ۔اَنْزَلَھُمُ الْمَنَازِلَ۔لوگوں کو ان کی جگہوں پر اتارا۔الشَّیْءَ۔رَتَّبَہُ۔کسی چیز کو مرتب کیا۔عِیْرَہُ۔قَدَّرَلَھَا الْمَنَازِلَ۔قافلہ کے امام نے قافلہ کے لوگوں کے لئے جگہیں مقرر کردیں (اقرب) تَنزیل اصل میں آہستہ آہستہ اتارنے کو کہتے ہیں۔اَلْقَدَرُ۔اَلْقَدَرُ مَایُقَدِّرُہُ اللہُ مِنَ الْقَضَاءِ۔وہ قضا جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتاہے۔وعَرَفَہُ بَعْضُہُمْ بِاَنَّہُ تَعَلُّقُ الْاِرَادَۃِ بِالْاَشْیَائِ فِیْ اَوْقَاتِھَا۔اوربعض نے قدرکی یہ تعریف کی ہے کہ اشیا ء کااپنے اوقات پر وقوع پذیر ہونا قدر کہلاتاہے۔مَبْلَغُ الشَّیءِ کسی چیز کی حد اورانتہاء۔الطَّاقَۃُ۔طاقت۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں ایک بہت بڑی صداقت بیان کی گئی ہے۔اورپہلی آیت کی مزید تفصیل کی گئی ہے ہرچیز کے خزانے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں۔اورضرورت کے مطابق وہ انسانی ذہن کو ادھر منتقل کردیتاہے۔اورلوگ ان خزانوں سے فائدہ اٹھالیتے ہیں۔زمین میں سبھی کچھ تھا۔مگر ایک وقت تک انسان نے لوہے کاعلم حاصل نہ کیاتھا۔پھر لوہانکلا۔اوراسے لوگوں نے خوب استعمال کیا۔مگر لوہابے جان تھا۔جب انسان کی ضرورت بڑھی اور اس نے دنیا میںکثرت سے پھرناچاہا۔توپتھر کے کوئلے اوربھاپ کی دریافت ہوئی اوربے جان لوہا جانداروں کی طرح کام کرنے لگا۔ضرورت نے ترقی کی۔توتا ر کی بجلی کی ایجاد ہوئی۔اس کے بعد بے تار کی بجلی کی۔غرض ہرزمانہ کے مطابق زمین خزانے اگلتی چلی جاتی ہے۔کلام الٰہی کے خزانے حسب ضرورت نازل کئے جاتے ہیں اسی طر ح فرماتا ہے۔الٰہی کلام کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اس کے خزانے محفوظ رکھے جاتے ہیں اورزمانہ کی ضرورت کے مطابق نازل کئے جاتے ہیں۔پس کلام الٰہی کو صرف ایک کتاب نہیں سمجھنا چاہیے کہ نازل ہوگئی اور پھر خدا تعالیٰ نے اس سے تعلق چھوڑ دیا۔بلکہ کلام الٰہی ایک دنیا ہے جو ہزاروں خزانوں پر مشتمل ہے جو مختلف زمانہ کے لوگوں کے لئے ہیں جب تک وہ خزانہ سب کا سب مستحقین میں تقسیم نہ ہوجائے اس کلام کو بے حفاظت کس طرح چھوڑاجاسکتاہے۔ہاںجس کلام کاخزانہ خالی ہوجائے چونکہ اس میں کوئی چیز پہنچانے والی نہیں رہتی اسے چھوڑ دیاجاتاہے۔ان آیا ت میں مسلمانوں کو خطاب یاد رہے کہ پچھلی آیات میں گومضمون وہی حفاظت قرآن کا ہے لیکن ان میں مسلمانوں کوبھی خطاب میں شامل کرلیاگیاہے۔اورحفاظت قرآن کے عقیدہ کے متعلق مسلما ن جن غلطیوںمیں پڑسکتے تھے۔ان کا جواب بھی دیاگیاہے۔