تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 260
زمانہ میں نجومیوں کی باتیں زیادہ سچی ہوتی ہیں۔جو بالبداہت غلط ہے یاپھر ماننا پڑے گا۔کہ ہر زمانہ میں ہی نجومی شیطانوں سے باتیں پوچھ کر آگے لوگوں کو سناتے ہیں اورجوشخص ستاروں کا تھوڑا ساعلم بھی جانتا ہو۔وہ بتاسکتاہے کہ یہ خلاف عقل بات ہے۔علم نجوم و رمل وغیرہ گو لغو اورفضول ہیں۔مگر حسابی اصول پر قائم ہیں۔جنّات کا اس معاملہ میں کوئی بھی دخل نہیں۔ہاں ایک گروہ ہے۔جو ارواح سے اپنا تعلق ظاہر کرتاہے اور وہ وہ گروہ ہے جو اپنے آپ کو روحانی کہتے ہیں انگریزی میں یہ لوگ سپر چولسٹ کہلاتے ہیں۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے۔کہ وہ ارواح سے ملتے او رباتیں کرتے ہیں۔ان کا ذکر بھی آیات مذکو ر ہ میں نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ان کے متعلق بھی ہم نہیں دیکھتے کہ اِدھر وہ حاضرا ت کاعمل کریں اوراُدھر شہب گر نے لگیں۔اس نام نہاد علم کی طرف منسوب ہونے والے لو گ یا تو ٹھگی اورفریب کے مرتکب ہوتے ہیں او ران کی بھی کافی تعدا د ہے یاپھر وہ دھوکہ خوردہ لوگ ہیں جو انسانی دماغ کی باریکیوں کو نہ سمجھتے ہوئے بعض باریک روحانی قویٰ کو عالم اُخروی کی ارواح کا عمل اور تاثیر قرار دے لیتے ہیں۔بہر حال نہ ان کی مزعومہ ارواح آسمان سے سنتی ہیں اورنہ ان پر شہاب گرتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ ان آیا ت میں کلام الٰہی کی حفاظت کا ذکر ہے اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی پرکلام کے نازل ہونے تک کوئی اسے معلوم نہیں کرسکتا۔جب وہ نازل ہو جاتا ہے تو پھر شیاطین الانس والجن اسے مختلف ذرائع سے اچک کر اس میں جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتے ہیں او رنبی کے خلاف انہیں اکساتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ ایسے ہی موقع پر جھوٹ ملانے کافائدہ ہو سکتا ہے۔ورنہ جنّ آسمان سے غیب سنیں تو وہ پاگل ہیں کہ اس میں جھوٹ ملا کر اپنی عزت کھوئیں۔ہاں! نبی کے کلام میں ان کے دشمن جھوٹ ملاتے ہیں۔تاکہ لوگوں کو جوش دلائیں اور ان کے خلاف اُکسائیں۔کوئی صحیح حوالہ لیا۔اس کے غلط معنے کئے یاایک ٹکڑہ لیا۔اور سیاق و سباق سے الگ کر کے اس کے مضمون سے لوگوں کو جوش دلایا۔یہ نبیوں کے دشمنوں کا روزمرہ کامشغلہ ہے۔اوریہی وہ اچکنا ہے۔جسے اللہ تعالیٰ کی مشیت نے جائز رکھا ہے۔اور اس سے نبی کے مشن کی حفاظت نہیں کی۔شیطانوں کو کلام الٰہی کے غلط معانی پھیلانے کی اجازت اللہ تعالیٰ نے کسی مصلحت کی بناء پر دے رکھی ہے بلکہ فرماتا ہے۔کہ ہم دشمنوں کو ا سکاخود موقع دیتے ہیں جیسے خود فرمایا وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا (الانعام :۱۱۳) اور فرماتا ہے۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا لِيَمْكُرُوْا فِيْهَا (الانعام :۱۲۴) اور اسی طرح ہم نے ہر(نبی کی )بستی میں اس کے بڑے