تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 259

اس قدر حفاظت کے جواللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔شیطان کلام کے پہنچنے سے پہلے ہی اسے اچک لیتے ہیں توپھر نبیوںکے کلام پر کیا اعتباررہا۔جس طرح شیطان اسے اچک سکتے ہیں اس میں کچھ ملابھی سکتے ہیں (گو بعض لوگوں نے اس خیال کا بھی اظہارکیا ہے کہ شیطان نبی کی زبان پر بھی بعض کلمات جاری کردیتاہے۔العیاذ باللّٰہ)(تفسیر ابن کثیر زیر آیت وما ارسلنک من قبلک من رسول۔) اگریہ ممکن ہے کہ شیطا ن باوجو د حفاظت کے خدائی کلام کو اُچک لیتے ہیں۔تب تو یہ بھی کہاجاسکتاہے کہ ممکن ہے۔خدا تعالیٰ کی حفاظت کے باوجود وہ نبی کو ہلا ک بھی کردیں نعو ذ باللہ من ذالک۔مگر جس طرح یہ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا۔کہ کلام الٰہی کو شیطا ن اُچک کر لے جائے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ یا اِلَّامَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فرما کر خود ہی فرما دیا ہے کہ شیطان کچھ سن لیتا ہے یااچک لیتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اِلَّا اللہ تعالیٰ کے فعل کے بارہ میں نہیں۔بلکہ شیطان کے بارہ میں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتاکہ ہم اپنے کلام کی حفاظت کرتے ہیں۔سوائے کچھ تھوڑے سے کلام کے جو ہم شیطان کو دے دیتے ہیں۔تب تو یہ جوا ب صحیح ہوتاکہ خدا تعالیٰ کی طاقت پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ اپنی مرضی سے دیتاہے۔لیکن عبارت یو ں نہیں۔عبارت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ توحفاظت کرتاہے لیکن شیطان اچک لے جاتا ہے اور یہ معنی نہ صرف نبی اور کلام الٰہی کی شان کے خلاف ہیں بلکہ ان سے تونعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالیٰ کی بے بسی اور بے کسی بھی ظاہر ہوتی ہے۔اگر یہ معنے درست ہوں۔توچاہیے کہ جب کو ئی نجومی حساب لگائے اورکوئی زائچہ تجویز کرے۔اسی وقت شُہب آسمان سے گرنے لگیں۔مگریہ نہیں ہوتا۔پس واقعات ان معنوں کو ردّ کر رہے ہیں۔رات دن ہزاروں نجومی۔کاہن۔رمّال۔جفّار۔جوتشی۔پنڈت۔سٹرانومر۔سٹارلو جر ان کاموں میں مشغول ہیں اورغیب کی خبریں معلوم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اگر ان لوگوں کا تعلق شیطانوں سے ہے اورشیطان آسمان سے اچک کر انہیں خبریں بتاتے ہیں۔تورات اوردن شہب کی بارش ہوتی رہنی چاہیے۔اگر کہا جائے کہ شہب اسی وقت گرتے ہیں۔جبکہ شیاطین باتیں سنیں۔تواس کے معنی یہ ہوں گے۔کہ نبیوں کے زمانہ میں شیطان زیادہ باتیں سنتے ہیں اوراچک کر لے جاتے ہیں۔حالانکہ نبی کا زمانہ تو زیادہ محفو ظ زمانہ ہوتاہے۔اورہونا چاہیے۔پھر سوال یہ ہے۔کہ یہ امتیاز کیونکر کیاجائے۔کہ نبی کے زمانہ میں تونجومی شیطانوں سے خبریں سن کر لوگوںکو سناتے ہیں اور دوسرے زمانہ میں صرف حسا ب لگاکر سنادیتے ہیں؟کیونکہ دونوں قسم کی خبرو ں میں کوئی فرق کرناپڑے گا۔یاتو یہ کہنا ہوگا۔کہ نبی کے