تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 261

مجرموں کو ایسا ہی بنادیا ہے۔(اس کا ذکر پہلی آیت میں آیا ہے۔کہ شیطان اپنے دوستوں کوالہام کرتے او رنبی کے خلاف جھگڑنے کے لئے اُکساتے ہیں )اس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ نبی کے خلاف خوب تدبیریں کرتے ہیں۔غرض جہاں کلام الٰہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حفاظت حاصل ہے۔کہ اس میں کوئی ظاہری یا باطنی دشمن تبدیلی نہیں کرسکتا۔وہاں اللہ تعالیٰ نے شیطانی لوگوںکو اپنی مصلحت سے اس امر کی اجازت دے رکھی ہے۔کہ اس کلام کے غلط معنے لوگوں میں پھیلائیں۔یانبی کی وحی کے متعلق جھوٹ بو ل بول کر لوگوںکو جوش دلائیں۔لیکن جب وہ ایسا کرچکتے ہیں توپھر ان پر آسمان سے شہا ب گرتا ہے۔او ر نبی کے ذریعہ سے ان کے فریب کا پردہ چاک کردیاجاتاہے۔یہ وہ استثناء ہے کہ اس سے نہ خدا تعالیٰ کی طاقت پر حرف آتا ہے نہ دین مخدوش ہوتا ہے۔کیونکہ اس قسم کی شرارت کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی مستثنیٰ کردیا ہواہے۔نیز اس قسم کی شرارت سے دین میں کچھ حرج نہیں آتا۔وہ اپنی جگہ محفوظ رہتاہے۔یہ جھوٹی باتیں صرف دشمنوں میں پھیلائی جاتی ہیں اوردشمن کی چند روزہ خوشی کاموجب ہوتی ہیں۔کلام الٰہی کے خلاف شرارتیں کرنے والے دو قسم کے لوگ یہ بھی یادرکھناچاہیے کہ قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتاہے۔کہ کلام الٰہی کے خلا ف اس قسم کی شرارتیں کرنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک اندرونی دشمن یعنی منافق۔اورایک بیرونی دشمن۔اس کا ثبوت اس امر سے ملتاہے کہ سورئہ حجر اورسورئہ ملک میں تو شیطان رجیم کی طرف اس فعل کو منسوب کیا گیا ہے۔اورسورئہ صافات میں شَیْطانٍ مَارِد کی طرف۔اورلغت میں جہاں رجیم کے معنے دھتکارے ہوئے دور رکھے گئے کے ہیں مَارِد کے معنی باغی کے ہیں۔پس سورئہ حجر اورسورئہ ملک میں ان دشمنانِ دین کا ذکر ہے جو کفار میں سے ہوں۔یعنی جن کو ظاہر میں بھی اسلام کے قریب آنے کی توفیق نہ ملی ہو۔بلکہ وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں اوربتایاہے کہ ان کے حملوں سے اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت کرے گا۔اورسورئہ صافات میں یہ بتایاہے کہ بعض لوگ مسلمان کہلاتے ہوئے بھی نادانستہ یا شرارتاً قرآنی مطالب کو بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔وہ شیطان ماردٍ ہوں گے۔یعنے ظاہر میں تو مسلمان کہلائیں گے لیکن درحقیقت اسلام کے دانستہ یا نادانستہ باغی ہوں گے ان کے فساد کو بھی اللہ تعالیٰ دور کرے گا۔یہ آئندہ کے لئے پیشگوئی ہے او ر بتایا ہے۔کہ جب بھی مسلما ن قرآنی مطالب کے سمجھنے سے قاصر ہوجائیں گے اوراس کے مطالب کو بگاڑ دیں گے۔اللہ تعالیٰ مامور مبعوث کر کے ان کے شرا ور فتنہ سے قرآن کریم کو محفوظ کرے گا۔فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ایک بات او ربھی یاد رکھنے کے قابل ہے او روہ منجمین اورنام نہاد روحانیین کے بارہ میں ہے۔انبیاء کاوجود