تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 258
لوگوں کے لئے عجیب توہوتی ہی ہیں پہلے تولو گ حیران ہوتے ہیںکہ کیا یہ مدعی ایسی ایسی باتیں کرتاہے؟مگر کبھی نبی کے اتباع سے جب وہ اس حصہ کو سنتے ہیں جو شیطانوں نے صحیح بیان کیا تھا۔توا ن کے اتباع یقین کرلیتے ہیں۔کہ جو دوسری باتیں انہوں نے بیان کی تھیں۔وہ بھی صحیح تھیں۔اورآپس میں کہتے ہیں کہ دیکھا فلاں بزرگ نے فلاں د ن ان کے بارہ میں یہ با ت کہی تھی۔وہ درست نکلی۔اس مدعی کے مرید خود اس کی تصدیق کرتے ہیں۔پس اس سے ان کو ان جھوٹوں پر بھی یقین آجاتاہے۔جو ان کے سرداروں نے نبیوں کی طرف منسوب کئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں۔کہ نبی کے اتباع ان باتوںکو ہم سے چھپاتے ہیں۔اصل بات وہی ہے جو ہمارے لیڈروں نے کہی تھی۔یہ ایک عجیب سلسلہ ہے جو ہرنبی کے وقت میں چلتاہے اورلاکھو ںآدمی جو اپنی تحقیق کامدار اپنے لیڈروںکے بیانات پر رکھتے ہیں۔اورذاتی تحقیق کی زحمت گوارانہیں کرتے۔ا س بلا میں گرفتار ہو کر صداقت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان آیات کے متعلق جو معانی عوام میں مشہور ہیں۔یابعض مفسرین نے صحیح روایات کا مفہوم غلط سمجھنے کی وجہ سے یاکمزورروایات کوصحیح تسلیم کرلینے کی وجہ سے قرآن کریم کے منشاء کے خلاف لکھے ہیں۔ان کے متعلق بعض اورغور طلب امور بیان کرکے میں اس تعلیق کو ختم کرتاہوں۔گرنے والے وجود سے مراد ستارے نہیں بلکہ شہب ہیں گرنے والے وجود سے مراد ستارے نہیں بلکہ شُہب ہیں۔پس وہ معترضین جو کہتے ہیں کہ گویا قرآن کریم کے نزدیک آسمان سے گرتی ہو ئی نظر آنے والی روشنی حقیقی ستار ے ہوتے ہیں۔درست نہیں۔نہ یہ بات قرآن کریم میں ہے نہ اس کے معتبر مفسر یہ معنے کرتے ہیں۔بلکہ مفسرین توالگ رہے کفار تک بھی اس امر کو سمجھتے تھے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی علامت یہ نہ تھی کہ ستارے ٹوٹیں بلکہ یہ تھی کہ شُہب گریں۔(جیسا کہ اوپر طائف والوں کاواقعہ بیان ہوچکاہے۔) آسمان کے محفوظ ہونے کے باعث شیطان وہاں سے کوئی بات نہیں اچک سکتے قرآن کریم میں متواتر یہ بیان ہواہے کہ ہم نے آسمان کی حفاظت کی ہے۔پس جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے کی ہے اس سے شیطان کس طرح کو ئی بات اُچک سکتے ہیں۔جب سماء دنیا تک کلام اُتر آتاہے۔اورشیطان وہاں سے اسے اُچک لیتے ہیں۔توسوال یہ ہے کہ کیا فرشتے اس کلام کو نبی پر جلدی اتارتے ہیں۔یا شیطان اپنے اولیا ء پر۔اگر فرشتے پہلے اُتاردیتے ہیں۔توشیطانوں کو آسمان سے اُچکنے کاکیافائد ہ ہوا۔نبی کے منہ سے اس خبر کودنیا پہلے ہی سن چکی ہو گی۔اوراگر یہ کہا جائے۔کہ فرشتے نبی تک دیر میں پہنچتے ہیں شیطان اپنے اولیا ء تک جلد پہنچ جاتے ہیں۔توسارے خدائی سلسلہ پر اعتراض ہوگا۔اگر باوجود