تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 253
وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ۔وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لَهُمْ وَ مَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠۔اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ۠(الشعراء :۲۱۱۔۲۱۳)یعنے کفار کا یہ الزام کہ اس شخص پر شیطان کلام نازل کرتاہے درست نہیں۔کیونکہ(الف)اس کااپنا چال چلن ایسا اعلیٰ اورپاکیز ہ ہے۔کہ ایسے آدمیوں سے شیطان کو کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔(ب)جو تعلیم اس پر نازل ہوئی ہے وہ ایسی مطہّر اور پا ک ہے کہ ناپاک شیطان اس تعلیم کو اُتارہی نہیں سکتا۔کس طرح ممکن ہے کہ شیطان خود اپنے خلاف تعلیم اُتارے۔(ج) اس میں آسمانی علوم ہیں اور شیطان آسمانی علوم کے سُننے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان کی باتیں سننے سے محروم کیا ہو اہے۔ان زبردست قرآنی دلائل کی موجودگی میں یہ خیا ل کیونکر کیا جا سکتا ہے کہ شیطان آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں۔دوسرا دعویٰ ان روایات میں یہ کیا گیا ہے۔کہ شیطانوں یا جنّوں کو بعض غیبی امور بھی معلوم ہو جاتے تھے اور وہ زبردستی اخبار غیبیہ کو اچک لیتے تھے۔یہ دعویٰ بھی مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ سے بالبداہت غلط ثابت ہوتا ہے۔(۱) فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ(یونس: ۲۱) غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے (اگر وہ غیب تم کو ملے گا تو تم سچے مجھے ملے گا تو میں سچا ) پس آؤ !دونوں خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔اس آیت کے ہوتے ہوئے کس طرح کہا جاسکتا ہے۔کہ قرآن کریم کے رُو سے جنّات غیب کا علم آسمان سے اُچک لیتے تھے۔(۲) سورہ طور میں ہے۔اَمْ عِنْدَ ھُمُ الْغَیْبُ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ (طور:۴۲) کیا ان کے پاس غیب معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے۔جس سے غیب معلوم کر کے وہ لکھ لیتے ہیں ؟ یعنے ایسا ہرگز نہیں ہے (۳) یہی آیت سورئہ قلم میں بھی ہے (۴) سورئہ سباء میں ہے۔وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ يَقْذِفُوْنَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ۔وَ حِيْلَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ۔(سبا:۵۴،۵۵) یعنے یہ لوگ تیر ا انکار شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔اور غیب کے امور کے دریافت کرنے کے لئے دُور سے بیٹھے ہوئے ڈھکونسلے مارتے رہے ہیں۔مگر کامیاب نہیں ہوسکے ان کی غیب دانی کی خواہش کے راستہ میں اللہ تعالیٰ نے روکیں پیدا کررکھی ہیں جس طرح ان لوگوں کی خواہش کو پورا کرنے میں جوان سے پہلے گزر چکے ہیں روکیں پیدا کررکھی تھیں۔اور یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں (ایسے لوگوں کو غیب مل ہی کب سکتاہے۔یعنی غیب تو اس قلب پر نازل ہوتا ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہو) اور یقین اور ایمان کے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا ہو۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ وہ آسمان پر نہ جاتے تھے۔بلکہ دور بیٹھے ڈھکونسلے مارا کرتے تھے۔غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے (۵)وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ