تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 252

تھے۔تودونوں اقوال میں تطابق ہو سکتا ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھٰذا) درمنثور میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ(درمنثورسورئہ جن زیر آیت اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ )بیان ہواہے۔کہ شیطان آسمان کی باتیں سناکرتے تھے جوسنتے اس میں سوجھوٹ ملا دیاکرتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہ اس سے روکے گئے۔اس پر انہوں نے ابلیس سے ذکرکیا۔اس نے تحقیق کے لئے ایک وفد بھجوایا۔اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جَبَلَیْ نخلۃ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔اورابلیس کو خبر دی۔اس نے کہا بس یہی سبب مار پڑنے کاہے۔بعض روایات میں ہے کہ ابلیس نے زمین کی مٹی منگوائی۔اورسونگھ کر کہا کہ تہامہ کی زمین میں نبی ظاہر ہواہے۔شہب کےگرنے والی آیات کی تفاسیر میں مفسرین کی بد احتیاطی افسوس کہ ان بزرگ مفسرین نے جنہوں نے قرآنی تفسیر کے بیان کر نے میں نہایت محنت اورکوشش سے کام کیا ہے اس معاملہ میں سخت بے احتیاطی برتی ہے اورغیر معروف روایات کے رعب میں آگئے ہیں۔حالانکہ وہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں۔ان روایات سے معلوم ہوتاہے کہ(۱)شیطان آسمان کی باتوں کو سن لیتے تھے (۲)ان خبروں میں غیب بھی ہوتاتھا(۳)ابلیس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر ان شہب کی مار پیٹ سے ہوئی پہلے نہ تھی۔ان آیات کی تفاسیر کے تین غلط اصول ان تفاسیر کے یہ تین بنیادی اصول ہیں۔ان تینوں باتوں کونکال دیاجائے۔توروایات میں کچھ رہتاہی نہیں۔لیکن یہ تینوں باتیں کیسی غلط ہیں۔پہلی بات کہ شیطان آسمان سے باتیں سن سکتے ہیں۔قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات کے خلاف ہے (۱)سورہ طور میں ہے۔اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(طور:۳۹) یعنی کیا آسمان کی بات سننے کے لئے ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ سے یہ آسمان پر جاکر خدا تعالیٰ کی بات سن لیتے ہیں؟ (یعنے ایساہرگز نہیں )اگر ان میں سے کوئی اس امر کامدعی ہے تووہ سامنے آئے اوراپنی دلیل پیش کرے۔شیطان آسمان سے باتیں نہیں سنتے اس آیت سے صا ف ظاہر ہے کہ آسما ن پر جاکر بات سننا تو الگ رہا وہاں تک جانے کی قابلیت بھی کفار اور ان کے مددگاروں میں تسلیم نہیں کی گئی۔اگریہ درست ہوتا کہ جنّ ایک دوسرے پر چڑھ کر آسما ن تک جاپہنچتے تھے۔توکیاکفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جواب نہ دیتے۔کہ ایک طرف آپ اس امر کے قائل ہیں کہ جنّ ایک دوسر ے پر چڑھ کر آسمان تک جاپہنچتے ہیں۔اوردوسری طرف آپ یہ کہتے ہیں۔کہ آسمان تک جانے کی ان کے پاس کون سی سیڑھی موجود ہے۔شیطانوں و جنوں کو غیبی امور معلوم ہوجانے کے متعلق قرآن مجید کا بیان (۲)سورئہ شعراء میں ہے