تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 247
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَآءَ(المائدۃ:۴۵) ہم نے تورات کو جس میں ہدایت اورنو ر تھے نازل کیاتھا۔اس کے ذریعہ سے وہ انبیاء جو تورات کے مومنون میں شامل تھے۔نیز ربانی اوراحبار لوگ یہودیوں کے لئے فیصلے کیاکرتے تھے۔کیونکہ ان کے سپر د کتاب اللہ کی حفاظت کی گئی تھی ور وہ اس پر بطورنگران تھے(بیان القرآن زیر آیت انا نحن نزلنا الذکر۔۔۔)۔میرے نزدیک یہ استدلال اسی صورت میں درست ہوسکتاتھا۔اگراس جگہ نبیوں کا ذکر نہ ہوتامگر اس جگہ تویہ بتایاگیاہے کہ نبیوں کے سپر د تورات کی حفاظت کی گئی تھی اوریہ ظاہر ہے کہ نبی اپنی طاقت سے کام نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کی طاقت سے کام کرتاہے۔پس اس صورت میں کیونکر کہاجاسکتاہے کہ بندوں کے سپرد تورات کی حفاظت تھی ؟فرض کرو کہ کسی نے تورات کے مضمون کو بدل دیاہوتااورخدا تعالیٰ ایک نبی کو اس کی اصلاح کاکام سپرد کرتا۔تووہ نبی غلطی کیونکر معلوم کرسکتاتھا؟خدا تعالیٰ کے الہام کے سوا اس کے پاس اصل حقیقت معلوم کرنے کا کونسا ذریعہ ہوسکتاتھا۔اورجب خدا تعالیٰ الہام سے کسی کو کسی غلطی پر اطلاع دے گا۔تووہ حفاظت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی نہ کہ بندہ کی طرف سے۔یامثلاً چند شیطان اگر اس کلام کے معانی کو بگاڑنے کی کوشش کرتے اوردنیاکو گمراہ کر تے۔تونبی جو معجزات اورنشانات اوربراہین سماویہ سے ان کامقابلہ کرتاتھا۔وہ اس کاکام نہیں کہلاسکتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کاکام کہلائے گا۔پس یہ درست نہیں کہ پہلی کتب کی حفاظت بندوں کے سپرد تھی اورقرآن کریم کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی۔اللہ تعالیٰ نے سب ذکروں کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب ذکروں کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے۔جیساکہ اوپر کی آیات سے ثابت ہے۔ہاں! اگر بعض کام وہ بندوں سے لیتاتھاتو وہ صرف اس کاہتھیار ہونے کی صورت میں وہ کام کرتے تھے۔اب قرآن کریم جو سب دنیا میں پھیل گیا اورزبردست حافظہ والوں نے اسے حفظ کیا۔یہ بظاہر بندوں کاکام ہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتاکہ قرآن کریم کی حفاظت بندوں کے سپرد ہے۔کیونکہ یہ انتظام بھی تو اللہ تعالیٰ نے ہی کیا ہے۔حفاظت کے سلسلہ میں قرآن کریم کو دوسری کتب پر فضیلت اس بارہ میں نہیں کہ اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔اوردوسری کتب کی حفاظت انسان کرتے ہیں۔بلکہ اس بار ہ میں ہے کہ وہ ایک محدود عرصہ تک الذکر رہیں اورقرآن کریم قیامت تک کے لئے الذکر ہے اوراس کی تائید کے لئے ہمیشہ مامورین آتے رہیں گے۔جبکہ دوسری کتب کی حفاظت اللہ تعالیٰ دیرسے چھوڑ چکا ہے اورشیطانوں کے حملوں سے انہیں بچانے کے لئے اب آسمان سے