تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 248

شہاب نازل نہیں ہوتے۔دوسر ی فضیلت اس بارہ میں قرآن کریم کو یہ حاصل ہے۔کہ و ہ سب کا سب کلام اللہ ہے یعنے اس کاایک ایک لفظ الہامی ہے۔جبکہ پہلی کتب کایہ حال نہ تھا۔وہ کلام الٰہی اور تشریح کلام الٰہی کے مجموعہ ہوتے تھے۔جیساکہ عہد قدیم کی کتب اور انجیل سے روز روشن کی طرح ثابت ہے۔پس ان کتب کے مضمون کی حفاظت کافی سمجھی جاتی تھی۔کیونکہ اس زمانہ میں الذکر مفہوم کانام تھا۔الفاظ کا نہیں اورخدائی الہام کو انبیاء یاان کے تابع اکثر اپنے الفاظ میں بیان کردیتے تھے۔اوراس میں حرج نہ سمجھاجاتاتھا۔قرآن کریم کی وحی چونکہ دائمی وحی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے وقت سے طریق وحی کو بدل دیا۔اورخود الفاظ کامحفوظ رکھنا ان کی حرکات سمیت ضروری قرارپایا۔پس قرآن کریم کاہرہرلفظ لکھا گیا، یاد کیاگیا اورمحفوظ رکھا گیا۔اس قسم کی حفاظت پہلی کسی وحی کو حاصل نہ تھی۔نہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے۔نہ بندوںکے ذریعہ سے۔ہاں معنوی حفاظت ایک محدود عرصہ کے لئے اسی طر ح دوسری کتب کوحاصل تھی جس طرح کہ قرآن کو قیامت تک کے لئے حاصل ہے۔ظاہری شہب کو انبیاء سے تشبیہ دینے کا مطلب ایک سوال ابھی قابل جواب رہ جاتاہے اوروہ یہ ہے کہ ظاہر ی آسما ن پر سےجو شہب گرتے ہیں۔ان کی کیاتوجیہہ ہے۔آخر ان سے جو انبیاء کو مشابہت دی ہے۔توضرور ہے کہ وہ بھی کوئی ایسافائدہ دیتے ہوں۔جوشیطان پرچوٹ سمجھے جانے کے قابل ہو۔نبیوں کے ظہور کے وقت دو قسم کے نشانات اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ نبیوں کے ظہور کے وقت وہ دو قسم کے نشان دکھاتاہے۔ایک قسم کے نشان تو انسانوں کے قریب ہوتے ہیں۔یعنی اس دنیاکی اشیاء میں ظاہر ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ بعض شکی مزاج لوگ ان کے متعلق خیا ل کرتے ہیں۔کہ شاید نبی کی چالاکی یاہوشیاری کاان میں دخل ہو۔وہ ایک دوسری قسم کے نشان بھی ظاہر کرتاہے۔جو آسمانی اجرام سے تعلق رکھتے ہیں۔انبیاء کے ظہور کے وقت شہب کے گرنے کا نشان ان میں سے ایک نشان ستاروں یعنی شہب کے ٹوٹنے کابھی ہے۔جہاں تک تاریخی انبیاء کا تعلق ہے۔حضرت مسیح ؑ ناصری اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ امر تاریخ سے ثابت ہے کہ اس وقت ستارے کثرت سے ٹوٹے تھے اوریہ نشان یاتواس نبی کی اپنی پیشگوئی کے ماتحت ظاہرہو تاہے یااس سے پہلے کے نبیوں یاولیوں کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہوتاہے۔آنحضرت ؐ کے زمانہ میں شہب بکثرت گرے چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی شہب کثرت سے گرے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تواس کثرت سے گرے کہ کفارنے خیال کیا کہ شاید آسمان و زمین تباہ ہونے لگے ہیں۔اور اہل سماء