تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 246

کریم کی حفاظت کے لئے خاص طور پر اس طریق کے استعمال کاوعد ہ کیاگیاہے اوراس سے زیادہ مضبوط طریق حفاظت کا ناممکن ہے۔کیونکہ مامورین نہ صرف نشانات سے شیطانوں کے حملو ں سے شریعت حقہ کی حفاظت کرتے ہیں۔بلکہ بوجہ الہام سے مؤیّد ہونے کے ان کی تشریحات سے مومنوںکو کلام الٰہی کے وہ صحیح معنے بھی معلوم ہوتے ہیں۔جن کے بارہ میں شک کیاہی نہیں جاسکتااوران کی وجہ سے و ہ ان تفسیری اختلافات سے نجات پاجاتے ہیں جو اس سے پہلے لوگوں کے خیالات کو مشوّش کررہے ہوتے ہیں۔کلام الٰہی کی حفاظت کے لئے مامورین کا آنا نہایت ضروری ہے مذکورہ بالا تفصیل سے یہ امر روشن ہو جاتاہے کہ کلام سابق کی حفاظت یعنے اسے شیطانی وساوس سے پاک کرنے اور اس کی زندگی کاتازہ نشانات سے ثبوت دینے کے لئے مامورین کاآنا نہایت ضروری ہے۔لیکن افسوس کہ آ ج مسلمان اس فضیلت کے منکر ہیں اورکہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تابع نبی بھی نہیں آسکتا۔حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تک کوئی کلام الذکر ہے۔اس کی حفاظت اور دشمنوں کے حملوں سے بچانے کے لئے آسمانِ روحانی کے ستارے اورشہاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے رہیں گے۔پہلے مذاہب میں انبیاء کی بعثت کا بند ہونا ان کی کتب کے الذکر نہ ہونے کی علامت تھی پہلے مذاہب میں جو انبیاء کی بعثت کاسلسلہ بند ہوگیاہے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی کتب الذکر نہیں رہیں۔قرآن کریم چونکہ الذکر ہے اورقیامت تک رہے گا۔اس کی حفاظت کا یہ ذریعہ بھی قائم رہے گا۔اوراس سے اس کادرجہ گھٹتانہیں بلکہ یہ ثابت ہوتاہے کہ قرآن کریم اب تک الذکر ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ اوربند ہ میں تعلق پیداکرنے کاذریعہ ہے۔اس لئے اس کی ظاہری حفاظت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ مامورین بھیج کر اندرونی اوربیرونی شیطانوں کے حملوں کو دور کرکے اس کی معنوی حفاظت بھی کرتاہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ اب شھاب مبین یعنے آسمانِ روحانی کے ستارے بھیجنے کاسلسلہ قرآن کریم کی حفاظت کے لئے بھی بند ہوگیاہے وہ دوسرے لفظوں میں یہ کہتاہے کہ نعوذ باللہ من ذالک قرآن کریم اب الذکر نہیں رہااور اس کی حفاظت کے لئے اورشیطانوں کی سرکوبی کے لئے اب روحانی آسمان سے ستاروں کانزول بند ہوگیاہے۔یہ خیال کہ پہلے الہاموں کی حفاظت بندے کرتے تھے درست نہیں ایک موجودہ زمانہ کے مفسر نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرتاہے۔اس سے پہلے الہاموں کی حفاظت بندے کرتے تھے۔اوراس کے ثبو ت میں اس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ اورسو ر ہ مائدہ کی مندرجہ ذیل آیت کو پیش کیا ہے۔