تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 244

اتباع میں سے کسی کو شہاب ثاقب یاشہاب مبین بناکر یعنے اپنا تازہ الہا م دے کر اوراپنے نشانات سے مؤیّدکرکے آسمان روحانی سے نازل کرتاہے تاوہ ایسے شیاطین کی سرکوبی کرکے کلام الٰہی کو پھر اس کی اصل جگہ پر لے آئیں اوراس طرح وہ کلام جو بکھرجانے اورتباہ ہونے کے خطرہ میں پڑ گیاتھاپھر محفوظ ہوجائے۔اوراس کے صحیح مطالب پھرلوگوں پر آشکار ہو جائیں۔اوپر کے مضمون سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان آیات میں ستاروں سے انبیاء مرادہیں اورشہاب مبین یاشہاب ثاقب سے مراد وقت کانبی ہے۔کیونکہ ہرنبی ایک ستارہ ہے اورآسمان روحانی کے لئے زینت کاموجب ہے لیکن ہرنبی ہروقت شہاب کاکام نہیں دے رہا۔یعنے وہ شیطان جو دین میں رخنہ اندازی کررہے ہیں ان کی ہلاکت کاموجب نہیں بن رہا۔یہ کام صرف وقت کانبی کرتاہے۔یاوہ نبی کرتاہے جس کی نبوت زندہ ہو۔اورجس کی شریعت قابل عمل ہو ایسے نبی کی امت میں خرابی پیداہوکر اگردوسراتابع نبی مبعوث بھی ہو تب بھی چونکہ اس کی قوت قدسیہ اس تابع نبی کے ذریعہ سے کام کررہی ہوتی ہے۔وہ شہاب ہی کہلاتاہے۔چنانچہ اس تشریح کے ماتحت حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہماالسلام اور دوسرے سابق انبیاء آسمان روحانی کے ستارے توہیں۔مگرشہاب نہیں۔کیونکہ اس وقت شیطانوں کے مارنے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں استعمال نہیں کررہا۔مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہاب ہیں کیونکہ ان کے ا ظلال یہ کام قیامت تک کریں گے۔اس آیت میں نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ کی حقیقت بتائی گئی ہے خلاصہ کلام یہ کہ ان آیات میں اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَکی حقیقت بتائی گئی ہےاوربتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس کلام کی جو اس کی طرف سے اتراہو اورالذکرکہلانے کامستحق ہو کس کس طرح حفاظت کرتاہے۔ظاہر میں بھی اورباطن میں بھی اورنبی کے زمانہ میں بھی اوراسکے بعد بھی۔اوریہ کہ وہ قرآن کریم کی حفاظت بھی ان سب سامانوں کے ذریعہ سے کرے گا۔کلام الٰہی کی حفاظت کا ذکر سورۃ حج میں یہ آیات گویاسورہ حج کی مندرجہ ذیل آیات کے ہم معنے ہیں۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖ١ۚ فَيَنْسَخُ اللّٰهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ(الحج:۵۳)یعنی ہرنبی اور رسول کے ساتھ یہ معاملہ گزراہے کہ جب اس نے خدا کاکلام پڑھ کر لوگوںکو سنایا شیطان نے ہمیشہ ہی ان کے سنائے ہوئے کلام میں اپنی طرف سے کچھ معنے شامل کرکے لوگو ں کو یہ بدلے ہوئے مضامین سنانے شروع کئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس کی ملائی ہوئی باتوں کو تو مٹا دیا اور خدائی کلام کو قائم رکھا یعنے لوگ کلام الٰہی کو بگاڑ بگاڑکر لوگوں کوگمراہ توکرتے ہیں مگر آخر کلام کی سچائی ظاہر ہوجاتی ہے۔