تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 245

اوروہ لوگ ناکام و نامراد ہوجاتے ہیں۔ان دونوں آیتوں میں شدید مشابہت ہے۔سورہ حجر میں بھی یہ ذکر ہے کہ روحانی آسمان کی حفاظت کی جاتی ہے۔اوریہاں بھی یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کلام الٰہی کی حفاظت کرتاہے۔سورہ حجر میں بھی ہے کہ شیطان آسمان میں دخل دیناچاہتے ہیں اورسورہ حج میں بھی ہے کہ وہ کلام الٰہی میں دخل دینا چاہتے ہیں سورہ حجر میں بھی ہے کہ دخل دینے والوں کو خداتباہ کردیتاہے۔اورسورہ حج میں بھی ہے کہ کلام الٰہی کو بگاڑنے کی سعی کرنے والوںکے فعل کو خدا تعالیٰ مٹادیتاہے۔غرض دونوں کے مفہوم سے صاف معلوم ہوتاہے کہ دونوںمیں ایک ہی مضمون بتایاگیاہے۔اورجب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آسمانوں کی زینت اوران کی حفاظت کابیان ہرجگہ کلام الٰہی کے ذکرکے بعد بیان ہواہے۔توصاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس جگہ روحانی آسمان اوراس کی حفاظت کا ذکر ہے۔نہ کہ جسمانی آسمان اوراس کی حفاظت کا۔جسمانی آسمان سے صرف تشبیہ دی گئی ہے۔اس سے زیادہ اس سے ا س کاکوئی تعلق نہیں۔ان آیات میں یہ بھی بتایاگیاکہ ذکر محفوظ کی یہ علامت ہے کہ اس کے اند رجب کو ئی دخل دیناچاہے اس کی حفاظت کے لئے شہاب اترتے ہیں پس جس کلام کی حفاظت کے لئے شہاب نہ اتریں مانناپڑے گاکہ اب و ہ کلام محفوظ نہیں رہا۔اورالذکر کے مقام سے گرگیاہے۔شہاب کے معنے یہ بھی یاد رکھناچاہیے کہ گوشہاب کے تین معنے ہیں(۱)شعلہ (۲)ستاروں کی طرح چمکنے والی روشنی جو آسمانی پتھروں کی رگڑ سے پیداہوتی ہے اور(۳)ستارہ۔لیکن اس جگہ ستارہ ہی مراد ہے۔کیونکہ دوسری جگہ صافات(ع۱) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِ۔وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ (الصافات:۷،۸)یعنی آسمان پر ستارے زینت کے لئے اورحفاظت کے لئے بنائے گئے ہیں۔پس حفاظت کاکام ستاروں کے سپر د کیاگیاہے پھرسورہ مُلک میں ہے۔وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيٰطِيْنِ (الملک:۶)یعنے ہم نے آسمان قریب کو ستاروں سے مزین کیا ہے اور ان ستاروں کو شیطانوں پر پتھرائو کرنے کا ذریعہ بنایاہے۔ان حوالوں سے معلوم ہوتاہے کہ شہاب ستاروں کاہی نام رکھا گیاہے۔شہاب کے پیچھے لگانے سے مراد پس شہاب کے پیچھے لگانے سے یہ مراد ہے کہ جب تک کوئی کلام الٰہی زندہ ہوتاہے اورالذکر کہلانے کامستحق ہوتاہے۔کلام الٰہی کی حفاظت کے لئے شہاب بھیجنے سے مراد مامورین کی بعثت اللہ تعالیٰ دشمنوں سے اس کی حفاظت کے لئے شہاب یاستارے یا دوسرے الفاظ میں مامورین بھیجتارہتاہے۔اورزیر بحث آیات میں قرآن