تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 229
مرجع کے متعلق مفسرین میں اختلاف ہواہے بعض نے اسے لَایُؤْمِنُوْنَ کی طرف بطو ر ضمیر مقدم کے راجع کیا ہے اوربعض اس کو پہلی آیت کی طرف لے گئے ہیں(مجمع البیان زیر آیت ھذا)۔مگرمیرے نزدیک اس کامرجع استھزاء ہے۔جوپہلی آیت میں مذکور ہواہے۔نَسْلُكُهٗ کی ضمیر کا مرجع استہزاءہے كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔کہہ کر اس بات کو ظاہر کیاہے کہ جب انسان برے فعل کا ارتکاب کرتاہے تو صرف اس گناہ کامرتکب نہیں ہوتا۔بلکہ گناہ کی نفرت بھی اس کے دل سے کم ہوجاتی ہے اورآہستہ آہستہ اس کے دل میں گناہ کی محبت پیداہوجاتی ہے اورگناہ اس کے دل میں گھر بنالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ گناہ کے طبعی نتائج نکالتا ہے اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گنہگار نہیں بناتا۔بلکہ گناہ کے طبعی نتائج نکالتاہے۔اوراس کا الزام اللہ تعالیٰ پر نہیں بلکہ خود گنہگار پر آتاہے۔لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۱۴ یہ (لو گ) اس پر ایمان نہیں لاتے۔حالانکہ پہلوں(کے متعلق اللہ تعالیٰ)کی سنت گز رچکی ہے۔حلّ لُغَات۔اَلسُّنَّۃُ۔اَلسُّنَّۃُ السِّیْرَۃُ سنت کے معنی ہیں دستور۔الطَّرِیْقَۃُ۔طریقہ۔اَلطَّبِیعَۃُ۔طبیعت عادت۔(اقرب) تفسیر۔استہزاء سے دل سخت ہو جاتے ہیں یعنے استہزاء کی جب عادت ہوجاتی ہے تودل سخت ہوجاتے ہیں اورآخر باوجود کھلے نشانات دیکھنے اور واضح ثبوت موجود ہونے کے لوگ ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں یہی حال پہلی قوموں کاہوا۔یہی ان کاہوگا۔استہزاء کرکے کس نے ہدایت پائی کہ اب یہ پائیں گے۔وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ اوراگر( بالفرض)ہم ان پر (شناخت کی)کو ئی آسمانی راہ کھول (بھی )دیتے۔اوروہ اس میں چڑھنے لگتے يَعْرُجُوْنَۙ۰۰۱۵لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ (اورقرآن مجید کامنجانب اللہ ہونا ان پر ظاہر ہوجاتا)تو(بھی)وہ (یہی ) کہتے (کہ)محض ہماری نظروں پر پردہ