تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 228

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَۙ۰۰۱۳ اسی طرح ہم اس (عادت استھزاء)کو مجرموں کے دلوں میںداخل کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔نَسْلُکُہٗ۔نَسْلُکُ سَلَکَ سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اورسَلَکَ الْمَکَانَ سَلْکًا وَسُلُوْکاً کے معنی ہیں دَخَل فِیْہِ کسی جگہ میں داخل ہوااوراس کے اندر گیا سَلَکَ الطَّرِیْقَ اَیْ دَخَلَہٗ وَسَارَفِیْہِ مُتَّبِعًااِیَّاہُ۔فَھُوَسَالِکٌ۔اورسَلَکَ الطَّرِیْقَ کے معنی ہیں۔راستہ اختیار کرکے اس پر چل پڑااوراس سے اسم فاعل سَالِک (یعنی راستہ اختیار کرکے اس پر چلنے والا)آتاہے۔سَلَکَ الشَّیْءَ فِی الشَّیْءِ۔اَدْخَلَہٗ فِیْہِ کَمَا تُسْلَکُ الْیَدُ فِی الْجَیْبِ وَالْخَیْطُ فِی الْاِبْرَۃِ۔اور سَلَکَ الشَّیْءَ فِی الشَّیْءِ کے معنی ہیں۔ایک چیز کو دوسری چیز کے اندرداخل کیا جیسے گریبان میں ہاتھ ڈالنا یاسوئی کے سوراخ میں تاگہ ڈالنا۔وفی القرآن سَلَکْنٰہٗ فِی قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ۔اورقرآن مجید کی آیت سَلَکْنَاہُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَمیں یہ لفظ انہی معنوں میں آیاہے۔وَسَلَکَ فُلَانًاالْمَکَانْ کے معنے ہیں اَدْخَلَہٗ۔فلاں شخص کو مکان میں داخل کیا۔(اقرب) المجرمین اَلْمُجْرِمِیْنَ(جَرَمَ۔یَجْرِمُ۔جَرمًا)جَرَمَہٗکے معنی ہیں۔قَطَعَہٗ۔کاٹا۔وَمِنْہُ جَرَمَ النَّخْلَ جَرْمًا اِذَاصَرَمَہٗ کھجور کو کاٹ کر جداکردیا۔جَرَ مَ زیدٌ۔اَذْنَبَ۔زید نے جرم کاارتکاب کیا۔جَرَمَ عَلٰی قَوْمِہٖ وَالٰی قَوْمِہٖ جَرِیْمَۃً جَنَی۔جِنَایَۃً قو م پر زیادتی کی۔وَجَرَمَ لِاَھْلِہٖ۔کَسَبَ۔کمایا۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْاٰنِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا۔اَیْ لَا یَکْسِبَنَّکُمْ وفُسِّرَ اَیْضًا بِلَا یَحْمِلَنَّکُمْ۔اورقرآن مجید کی آیت لَایَجْرِمَنَّکُمْ میں جرمَ کے معنے کمانے کے کئے گئے ہیں۔یعنے دشمن کی دشمنی تمہارے لئے اس امر کی محرک نہ ہوکہ تم ظلم کمائو۔اس کے علاوہ اس سے یہ بھی مراد لی گئی ہے۔کہ لَایَحْمِلَنَّکُمْ یعنی تم کو آمادہ نہ کرے۔اَجْرَمَ۔اَذْنَبَ۔عَظُمَ جُرمُہ۔اجْرَمَ کے معنے ہیں۔قصورکیااوراس کاقصوربڑا تھا۔اَجرَمَ عَلَیْھِمْ جَنَی ظلم کیا۔(اقرب) ان تمام محاورات سے ظاہر ہے کہ اصل میں جرم کے معنے قطع کے ہوتے ہیں۔گناہ چونکہ خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرواتاہے اوربنی نوع انسان سے بھی۔اس لئے اسلامی شریعت میں گناہ کو جرم کہاجاتاہے اورگناہ وہی ہوتا ہے۔جس سے یا خدا سے تعلق ٹوٹے یابندوں سے بگاڑ پیداہو۔پس اَلْمُجْرِمُ کے معنے ہونگے صَارَاذَاجُرمٍ یعنی تعلق کو کاٹنے والا۔تفسیر۔نَسْلُکُہُ کی ضمیر کے مرجع کے متعلق اختلاف اس آیت میں نَسْلُکُہ کی ضمیر کے