تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 227
زمانہ میں علاوہ اورذرائع کے اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ان کے زمانہ میں ہی حکومت ان کی جماعت کو مل جاتی ہے اور وہ عملاً اس شریعت کو رائج کرکے اس کے اصلی معنوں کو ظاہر کرجاتے ہیں اورجو شرعی نبی نہ ہوں۔ان کی جماعت کو بھی اللہ تعالیٰ غلبہ دیتاہے تاکہ ان کی تعلیم کے عملی ثمرات ظاہر ہوں لیکن ان کے لئے فوری حکومت کاملنا ضروری نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کلام الٰہی کی حفاظت کاسلسلہ ہمیشہ سے چلاآتاہے اسی رنگ میں تم اب نشان دیکھ لو گے۔نہایت تعجب کی بات ہے کہ انبیاء کے منکرین اس سہل ترین راستہ کو قبول کرنے سے ہمیشہ پہلو تہی کرتے ہیں جو انہیں یقینی طور پر سچے نبی کی شناخت میں ممد ہوسکتا ہے اوروہ راستہ منہاج نبوت کے مطابق مدعی کے دعویٰ کو پرکھنا ہے۔اگرمنہاج نبوت کے مطابق مدعی کے دعویٰ کو پرکھا جائے تواس کی صداقت یا اس کے کذب کو معلوم کرنا ایک ساعت کاکام ہوتاہےمگر اسی راستہ کو قبول کرنے سے وہ پہلو تہی کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ صداقت کو معلوم کرنا مطلوب نہیں ہوتابلکہ خلط مبحث کرکے سچائی سے گریز کرنا مطلوب ہوتاہے۔وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠۰۰۱۲ اور جو رسول بھی ان کے پاس آتاتھاوہ اس کی ہنسی اُڑاتے تھے۔تفسیر۔اِسْتِھْزَاءٌ اس ہنسی کوکہتے ہیں جس میں تحقیر پائی جائے۔اس آیت کاتعلق ایک تو يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ سے ہے کہ اس میں کفار کے تمسخر کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔کفار کا انبیاء سے تمسخر فرماتا ہے اس نبی سے تم نے تمسخرکرلیا توکیاہواوہ انبیاء جن کو تم مانتے ہوان سے بھی تو تمسخر ہوتارہاہے۔دوسرے یہ بتایا کہ ہرنبی کے کلام اوراس کی تعلیم کی حفاظت کاوعدہ ہوتاہے اوریہ امر کفار کو عجیب معلوم ہوتاہے کہ ہماری مخالفت کے باوجود یہ تعلیم کس طرح باقی رہ جائے گی اور و ہ اس دعویٰ کوغیر معقول سمجھ کر اس سے ہنسی کرتے رہے ہیں۔تعجب ہے کہ ہرنبی سے تمسخر ہواہے پھر بھی جب کوئی نیانبی آتاہے دنیا اس سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ کیوں اسے خاص شان نہیں ملی۔اگر خاص شان اورطاقت سے نبی آتے توگزشتہ نبیوںسے تمسخر کیونکر ہوسکتاتھا؟