تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 226

گا کیونکہ کوئی عقلمند اپنی کار آمد شے کو تباہ نہیں ہونے دیتا ا وراللہ تعالیٰ تو سب عقلمندوں سے بڑھ کر عقلمند ہے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۱۱ اورہم نے اگلے (زمانہ کے ) لوگوں کی جماعتوں میں (بھی ) تجھ سے پہلے رسول بھیجے تھے۔حلّ لُغَات۔شِیَعٌ۔شِیَعٌ شِیْعَۃٌ کی جمع ہے۔شِیْعَۃُ الرَّجُلِ۔اَتْبَاعُہُ واَنْصَارُہُ شِیْعَۃُ الرَّجُلِ کے معنے ہیں۔آدمی کے اتباع اور مددگار (اقرب) شِیَعِ الْاَ وَّلِیْنَ کے متعلق فراء نے کہا ہے کہ یہ اِضَافَۃُ الشَّیءِ اِلٰی صِفَتِہِ کی طرز پر ہے۔یعنی اس کے معنے ہیں پہلے جتھے۔(بحر محیط) تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے تمام گروہوں کو شیعہ کہا ہے اللہ تعالیٰ نے تمام گروہوں کو شیعہ کہا ہے۔اس سے ان لوگوں کی تردید ہوتی جو کہاکرتے ہیں کہ ہم ہرطرح سے آزاد ہیں جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں وہ نہ آزاد ہوتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں وہ یہ فقرہ صرف چالاکی سے کہتے ہیں تاکہ وہ تو اعتراض کرتے چلے جائیں لیکن ان پر کوئی اعتراض نہ کرسکے۔آزادی کا دعویٰ کرنا غلط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ کوئی آزاد بھی ہوتاہے ہرآدمی کسی نہ کسی کے ماتحت یا کسی نہ کسی جتھے میں ضرور ہوتاہے۔خواہ مذہب کی بنا پر ہو خواہ رسم کی بناء پرخواہ فلسفہ کی بناپر کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ آزاد ہو ہر انسان کو اپنی زندگی میں اتنے امور سے واسطہ پڑتا ہے کہ ہر امر کی بابت تحقیق کرنا اس کے لئے ناممکن ہوتاہے۔اس لئے کچھ نہ کچھ امور میں وہ ایسے لوگوں کے خیالات کو قبول کرلیتا ہے جن پر اسے اعتقاد ہوتاہے۔شیع الاولین سے انسان کے نقل کرنے کی طرف اشارہ سائیکالوجی والے(علم النفس کے ماہرین) کہتے ہیں کہ انسان میں نقل کرنے کامادہ اس کاسب سے بڑاخاصہ ہے۔اسی بات کو اس جگہ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ کہہ کر بیان کیا گیاہے یعنے مختلف جتھے جو کسی نہ کسی سبب سے آپس میں متحد تھے۔اس آیت کا پہلی آیت سے تعلق اس آیت میں پہلی آیت کے مضمون کے متعلق یہ بتایاگیا ہے کہ پہلے بھی نبی گزرے ہیں اور ان کی تعلیم کی بھی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی ہے اسی طرح اس رسول کی تعلیم کی بھی حفاظت کرے گاحفاظت سے مراد جیساکہ بتایاجاچکاہے نہ صرف لفظی حفاظت ہے بلکہ معنوی حفاظت بھی ہے جوشرعی نبیوں کے