تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 209

معلوم ہوتاہے۔ذکرکے معنی شرف کے ہوتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ آتاہے۔لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ (انبیاء :۱۱) ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب اتاری ہے جس میں تمہاری عزت کے سامان ہیں چونکہ اس جگہ اسلام کی ترقی کا ذکر ہے اورکفار کی ذلت کا۔اس لئے کفار طنزاً الذکر کے لفظ سے قرآن کا ذکرکرتے ہیں اورمطلب یہ ہے کہ ’’اے وہ شخص! جس پرایسامعزز اورممتاز کلام اُتراہے کہ ہم جیسے بھی خواہش کریں گے کہ ہم اس کے ماننے والے ہوتے۔توپکاپاگل ہے ‘‘۔بظاہر اس کلام کاپہلاحصہ دوسرے کے خلاف ہے ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص! جس پر یہ دنیاکو عزت دینے والا کلام نازل کیاگیاہے اوردوسری طرف کہتے ہیں کہ تو پاگل ہے۔کفار الذِّكْرُ کا لفظ طنزًا کہتے ہیں مگرطنزیہ کلام کی صورت میں یہ اختلاف باقی نہیں رہتا۔یہ فقرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوزخیوں کے متعلق آتاہے کہ ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ (الدخان :۵۰) اے معززاورشریف انسان! دوزخ کاعذاب چکھ۔یعنی تم اپنے آپ کو عزیز و کریم کہتے تھے۔اب دیکھو کہ تمہاری عزت اورکرم نے تم کوکس حالت تک پہنچادیاہے؟ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ سےعیسائیوں کا اعتراض اِنَّکَ مَجْنُوْنٌ اس کے متعلق عیسائیوں نے اعتراض کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ضرورکوئی جنون کامادہ تھاورنہ عرب لوگ آپؐ کو کیوں مجنون کہتے۔اچھے بھلے آدمی کو کون پاگل کہتاہے۔مجنون کے معنوں کی تعیین میں عیسائیوں کی غلطی اس اعتراض کے بیان میں انہوں نے پہلے تو مجنون کے معنوں کی تعیین میں غلطی کی ہے۔سیل اس آیت کاترجمہ یوں کرتاہے۔THOU ART CERTAINLY POSSESSED BY A DEVIL ضرور تجھ پر کوئی شیطان قابض ہے۔(تفسیر القرآن از وہیری) روڈویل اس کاترجمہ یوں کرتاہے :۔THOU ART SURELY POSSESSED BY A JINN تجھ پر یقیناً کسی جن کاسایہ ہے۔(ترجمۃ القرآن از روڈویل) پامر لکھتاہے :۔VERILY THOU ART POSSESSED