تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 208
لوگوں کاخیال ہے کہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کے دل کو صدمہ پہنچ کر عقل ماری گئی ہے۔وَقِیْلَ حِیْلَ بَیْنِ نَفْسِہِ وَعَقْلِہِ فَـجُنَّ عَقْلُہٗ بِذَلِکَ۔اوربعض لوگوں کایہ خیال ہے کہ اس کے اور اس کی عقل کے درمیان کوئی روک پیداہوگئی ہے۔اس وجہ سے وہ عقل سے کام نہیں لے سکتایہ مفردات والے نے مختلف لوگوں کاخیال جنون کی ماہیت کے متعلق بتایاہے اوراس سے ظاہر ہے کہ ضروری نہیں کہ جب کسی کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ مجنون ہے توعربی زبان میںاس کے یہی معنے ہوں کہ اسےجن چمٹ گیابلکہ اس کے اصل معنے تویہی ہوںگے کہ اس کادماغ خراب ہوگیاہے۔باقی بعض لوگ جو وہمی ہیں جنون کی تشریح یہ کریں گے کہ کسی جن نے ناراض ہوکر اس کادماغ خراب کردیاہے۔بعض لوگ جو احساسات کو بیماریوں کامنبع قرار دیتے ہیں یہ کہیں گے کہ اس کے دل کوکوئی صدمہ پہنچاہے اوربعض لوگ جوطبیعی ہیں یہ قرار دیں گے کہ اس کے دماغ میں کوئی نقص ہوگیاہے۔غرض کہ جنون کے معنے جن چمٹ جانے کے نہیں بلکہ جنون کاسبب بعض کے نزدیک جن کاچمٹ جاناہے۔وَقَوْلُہُ مَعَلَّمٌ مَجْنُوْنٌ أَیْ ضَامَّہُ مَنْ یُعَلِّمُہُ مِنَ الْجِنِّ وَکَذَالِکَ قَوْلُہُ تَعَالیٰ اَئِنَّا لتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُوْنٍ قرآن مجید کی آیت مُعَلَّمٌ مَجْنُوْنٌ اور لشَاعِرٍ مَجْنُوْن میں مجنون کے معنےمَنْ یُّعَلِّمُہُ الْجِنُّ کے ہیں یعنی جسے جن سکھاتے ہیں۔(مفردات کے یہ معنے تفسیری ہیں یعنی مختلف تفاسیر کے اثر کے نیچے انہوں نے یہ معنے لکھ دئیے ہیںورنہ محقق لغت میں یہ معنی نہیں۔لغت میں مجنو ن کے معنے یہی ہیں۔کہ جسے جنون کی بیماری ہو)۔تفسیر۔پہلے فرمایاتھا۔رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَکہ بارہاکفار مسلم ہونے کی خواہش کریں گے۔اب فرمایاکہ کفار اس بات کو سن کر کہ وہ ہلاک کردئیے جائیں گے نہایت تعجب کریں گے اور کہیں گے کہ تُوضرور پاگل ہے۔جوایسی باتیں کرتا ہے ہم توجلد ہی تجھے اورتیرے متبعین کو کچل ڈالیں گے۔رُبَمَاکے معنے مستقبل کے لینے کی صورت میں اس آیت کے معنے ربماکے معنے مستقبل کے کئے جائیں اوریہ مراد ہوکہ اسلام کی ترقیات کو دیکھ کر کفار کبھی کبھی یہ خواہش کریں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے یاکاش ہم مسلمانوں کامقابلہ نہ کرتے یاکاش ہم اللہ تعالیٰ کے توکل پر عمل پیراہوتے تو اس صورت میں آیت کایہ مطلب ہوگا کہ جب کفار اس اعلان کو سنتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اسلام کی ترقی کودیکھ کر کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے تو وہ اس دعویٰ کو مجنونانہ قرار دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ تو پاگل ہے جو ایسے دعوے کرتاہے۔ہم اسلام کے دشمن ایسی خواہش کس طرح کرسکتے ہیں اور ایسی ترقی تجھے اور تیرے اتباع کو کب مل سکتی ہے۔الذِّكْرُ قرآن مجید کا نام ہے اس آیت میںالذِّكْرُ کالفظ آیاہے یہ قرآن مجیدکانام کفار میں بھی معروف