تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 210

توتو بُری روحوں کے قبضہ میں ہے۔(ترجمۃ القرآن از ای۔ایچ پامر) مجنون کے معنے دیوانہ یا پاگل کے ہوتے ہیں گویامجنون ان کے نزدیک وہ شخص ہوتاہے جس پر کوئی شیطان یاجن قابض ہو۔حالانکہ اس جگہ یہ معنی مراد نہیں ہوسکتے۔اورنہ ہیں۔بلکہ جیساکہ اوپر حل لغات میں بتایاگیاہے مجنون کے معنے پاگل یادیوانہ ہوتے ہیں۔مجنون کے معنے اقرب الموارد میں لکھے ہیں۔مَنْ زَالَ عَقْلُہَ اَوْفَسدَ جس کی عقل جاتی رہے یاعقل میں خرابی آجائے۔(تفصیل کے لئے دیکھو حل لغات) آنحضرت ﷺ پر عیسائیوں کا الزام اپنے عیب کو چھپانے کے لئے ہے اصل میں یوروپین مصنفین نے اپنے عیب کو چھپانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمے یہ الزام لگانے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ یہودی حضرت مسیح ؑ کو کہتے تھے کہ اس پر جن سوار ہے۔مگر انہوں نے اتناغو رنہ کیاکہ وہاں کہنے والے یہودی ہیں اوراس جگہ مشرکین۔یہودیوں کے نزدیک تو جنّ ایک ناپاک روح ہےجس پروہ سوار ہواس کے معنے ہیں کہ وہ گنداہے مگرمشرکین کے ہاں تو جنّوں کی پوجاکی جاتی تھی۔اگرکفار کایہی مطلب ہوتا تووہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت نہ کرتے بلکہ آپؐ سے ڈرتے۔عیسائی معترضعین کا غلط استدلال پھر عیسائی معترضین نے دوسراظلم یہ کیاہے کہ وہ لکھتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہلِ مکہ جومجنون کہتے تھے اس کاضرور کوئی سبب چاہیے اوروہ سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ آپؐ کو نَعُوْذُبِاللہِ مِنْ ذَالِکَ مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ا س کی تائید میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاوہ واقعہ نقل کیاہے جو آپؐ کو حلیمہ دائی کے ہاں بقول بعض مؤرخین پیش آیاتھا۔وہ واقعہ اس طرح بیان ہواہے کہ آپؐ نے جنگل میں دیکھا (جہاں بعض بڑے بچے جانور چرارہے تھے )کہ دوآدمی براق لباس پہنے ہوئے آئے ہیں۔انہوں نے آپؐ کو گرالیا اورآپ ؐ کے سینہ کو چاک کیا اورکوئی سیاہ سی چیز اندرسے نکال کر پھینک دی (مسند احمد بن حنبل ، مسند الشامیین حدیث عقبۃ بن عبد السلمی)۔عیسائی اس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بچے تھے اس لئے جھوٹ تونہیں بولتے تھے لہٰذامرگی کادورہ مانناپڑے گا۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا کہ مرگی کے دورہ میں انسان اس قسم کے واقعات اورنظارے دیکھتاسوچتااورانہیں یاد رکھ سکتاہے یاکہ نہیں میں نے ڈاکٹری کتابیں دیکھی ہیں۔جن میں اس مرض کی اقسام اوران کی کیفیات بیان ہیں ان میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ انسان اس دورے کی حالت میں کسی نظارہ کو دیکھ کرباترتیب یاد رکھ