تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 207

اورتیری قوم کے لئے شرف کاموجب ہے۔وَالصَّلَاۃُ لِلہِ تَعَالیٰ والدُّعَاءُ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا۔چنانچہ انہی معنوں میں یہ فقرہ استعمال ہوتاہے۔اِذَاحَزَبَہٗ اَمْرٌفَزِعَ اِلَی الذِّکْرِکہ جب مصیبت کاسامناہوا۔تواس نے دعاکی طرف جلدی کی۔اَلْکِتَابُ فِیْہِ تَفْصِیْلُ الدِّیْنِ وَوَضْعُ الْمِلَلِ ایسی کتاب جس میں دین کی تفصیل ہو۔اور شریعت کے اصول بیان کئے گئے ہوں۔مِنَ الرِّجَالِ۔اَلْقَوِیُّ الشُّجَاعُ الْاَبِیُّ۔ایسابہادرشخص جوکسی کارعب برداشت نہ کرے۔مِنَ الْمَطْرِ۔اَلْوَابِلُ الشَّدِیْدُ۔سخت موسلا دھار بارش۔مِنْ القَوْلِ۔اَلصُّلْبُ الْمَتِیْنُ۔پکی بات۔(اقرب) المجنون۔اَلْمَجْنُوْنُ جُنَّ الرَّجُلُ۔جَنًّا وجُنُوْناً زالَ عَقْلُہٗ وَقِیْلَ فَسَدَ۔عقل جاتی رہی یاعقل میں فتور آگیا۔الجُنُونُ مَصْدَرُجَنَّ جنون۔جَنَّ َّ کامصدر ہے جس کے معنے ہیں چھپانا۔زَوَالُ الْعَقْلِ۔عقل کاجاتے رہنا۔وَقِیْلَ فَسَادَہٗ عقل میں خرابی کاپیداہونا۔اَلْمَجْنُوْنُ مَنْ زَالَ عَقْلُہ أَوْ فَسَدَ اورمجنون ایسے شخص کوکہتے ہیں جس کی عقل جاتی رہے یاعقل میں فتورپیداہوجائے۔(اقرب) القاموس العصر ی میں (جوانگریزی اورعربی کی اچھی لغت ہے )مجنون کے معنے میں لکھاہے:۔MAD, CRAZY, INSANE, FOOL,FOOLISH ٌٍدیوانہ۔کم عقل۔پاگل۔احمق۔بے وقوف۔مفردات میں ہے۔اَلْجِنَّۃُ جَمَاعَۃُ الْجِنِّ قَالَ تَعَالٰی مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔وَقَالَ تَعَالٰی وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا۔جِنَّۃٌ کے دومعنے ہیں۔ایک یہ کہ لفظ جن ّ کی جمع ہے جیسا کہ قرآن کریم کی مذکورہ بالادو آیات سے ظاہر ہے یعنی مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِاورجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا سےاور دوسرے معنےا س کے جنون کے ہیں۔جیساکہ لکھاہے اَلْجِنَّۃُ۔اَلْجُنُوْنُ وَقَالَ تَعَالیٰ مَابِصَاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّۃٍ۔أَیْ جُنُوْنٍ۔یعنی جِنَّۃٌ کے معنے جنون کے بھی ہیںجیساکہ قرآن کریم کی آیت مَابِصَاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّۃٍ سے ظاہر ہے۔وَالْجنُوْنُ حَائِلٌ بَیْنَ النَّفْسِ وَالْعَقْلِ اورجنون ایک قسم کی روک کانام ہے جوانسان کی طبیعت اور اس کی عقل کے درمیان پیدا ہوجاتی ہے۔وَجُنَّ فُلَانٌ قِیْلَ اَصَابَہُ الْجِنُّ یعنی بعض لوگوں کاخیال ہے کہ جب جُنَّ فُلَانٌ کہا جائے۔تواس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اسے جن چمٹ گئے ہیں۔وَبُنِیَ فِعْلُہٗ عَلیٰ فُعِلَ کَبِنَائِ الاَ دْوَائِ نَـحْوُزُکِمَ لُقِیَ وحُـمَّ َّ اور جُنّ بصیغہ مجہول اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ بھی ایک بیماری ہے اوربیماریوں کے لئے یہ صیغہ بالعموم استعمال ہوتاہے۔مثلاً زکام والے لقوہ والے اورتپ والے کے متعلق زُکِمَ۔لُقِیَ اورحُـمَّ َّ استعمال ہوتاہے۔وَقِیْلَ اُصِیْبَ جَنَانُہُ۔اوربعض