تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 206

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠۰۰۶ کوئی قوم بھی اپنی (ہلاکت کی ) میعاد سے بھاگ (کر بچ) نہیں سکتی۔اور نہ ہی پیچھے رہ( کر اس سے بچ) سکتی ہے حلّ لُغَات۔الاجل کی تشریح کے لئے دیکھوسورۃ رعدآیت نمبر۳۹۔اَلْاُمَّۃُ۔اَلْجَمَاعَۃُ۔امت کے معنے ہیں جماعت۔الْجِیْلُ مِنْ کُلِّ حیٍّ۔ہرقبیلے کے ہمعصرلوگ۔(اقرب) تفسیر۔مَاتَسْبِقُ اور مَایَسْتَأْخِرُوْنَ کامفہوم بالعموم لوگوں نے مبہم سابیان کیاہے۔میرے نزدیک ماتسبق کامطلب یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ عذاب سے کوئی قوم جس کے متعلق عذاب کی خبر ہودامن چھڑاکرنکل جائے یعنے عذاب تووقت پر آجائے لیکن نقصان نہ پہنچائے اوروہ ہلاکت سے بچ جائے اورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ قوم عذاب سے پیچھے رہ جائے یعنے عذاب ٹلتاہی چلاجائے اورملتوی ہوتاجائے گویاڈھیل بے شک ایک ضروری شے ہے اورنبی کے مخالفوں کو ضرور ملتی ہے تاجو ہدایت پانے کے قابل ہیں ہدایت پا جائیں مگریہ نہیں ہوتاکہ ڈھیل ہی ملتی جائے اورعذاب نبی یااس کے اتباع کے زمانہ میں ظاہر ہی نہ ہو۔اس آیت میں کفار کو ایک تنبیہ اس آیت میں کفار کو اس سے متنبہ کیا ہے کہ اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں کیونکہ وہ دوہی طرح محفوظ رہ سکتے ہیں (۱)یاتوعذاب آئے مگر ان کو ہلاک نہ کرے۔(۲) یاپھرعذاب ٹلتاہی جائے۔فرمایایہ دونوں باتیں نہ ہوںگی۔پس ڈھیل پر دلیر نہ ہوں۔وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ۰۰۷ اور انہوں نے (بڑے زور سے ) کہا ہے (کہ )اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے تو یقیناً دیوانہ ہے حلّ لُغَات۔الذّکر۔الذِّکْرُالتَّلَفُّظُ بِالشَّیْءِ وَاِحْضَارُہُ فِی الذِّھْنِ بِحَیْثُ لَایَغِیْبُ عَنْہُ۔ذکر کے معنی ہیں۔کسی چیزکامنہ سے ذکرکرنااورایسے طور پریاد اورمستحضر فی الذھن کرنا۔کہ وہ بھول نہ جائے۔اَلصِّیْتُ۔شہرت وَمِنْہُ لَہٗ ذِکْرٌفِی النَّاسِ۔اورانہی معنوں میں لَہٗ ذِکْرٌ فِی النَّاسِ کافقرہ بولتے ہیں۔کہ فلاں شخص کولوگوں میں شہرت حاصل ہے۔اَلثَّنَاءُ۔تعریف۔اَلشَّرَفُ۔شرف۔وَفِی الْقُرْاٰنِ اِنَّہٗ لَذِکْـرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ۔اورقرآن مجید میں اِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِک انہی معنوں میں استعمال ہواہے۔کہ قرآن مجید کانزول تیرے