تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 200
یعنی موت کے ڈر کی وجہ سے بزدلی کی پناہ لینے والا ہلاک ہوجائے گا۔لیکن جو ڈر کو دور پھینک دیتا ہے اور جنگ کے لئے نکل کھڑاہوتا ہے وہ زندہ سلامت واپس آئے گا۔اس جگہ پر رُبَ محذوف ہے۔جیسا کہ مُعْتَصِمٍ کی جَرّ سے ظاہر ہے اور شعر کے معنے یقیناً مضارع پردلالت کرتے ہیں۔کیونکہ سَیَـرْدٰی اور سَیَئُوْبُ مضارع کے صیغے ہیں۔غرض رُبَ مستقبل کے معنوں میں بھی آتا ہے اورتکثیر کے لئے بھی۔جیسا کہ سیبویہ اورزجاج کے قول سے اوپر ذکرہوچکا ہے۔اَسْلَمَ اَسْلَمَ سے اسم فاعل مُسْلِمٌ آتاہے۔اورمُسْلِمُوْنَ اس کی جمع ہے اَسْلَمَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں تَدَیَّنَ بِالْاِسْلَامِ مذہب اسلام قبول کرلیا۔اوراَسْلَمَ اَمْرَہٗ اِلَی اللہ کے معنے ہیں سَلَّمَہٗ کہ اپنے معاملہ کو اللہ کے سپرد کردیا (اقرب) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ کے معنے ہوںگے۔بسا اوقات منکریہ آرزوکرتے ہیں یاکریںگے کہ وہ اسلام کو قبول کرلیتے (۲)وہ اپنے معاملات کو اللہ کے سپردکردیتے۔تفسیر۔کفار کی خواہش کے متعلق مفسرین کی بحث کفارکی اس خواہش کے متعلق مفسرین نے بحث کی ہے کہ کب انہوں نے خواہش کی کہ وہ مسلمان ہوں؟بعض نے مجبورہوکرکہاکہ وہ اس وقت یہ خواہش کریں گے جب مسلمانوں کی فتح ہوگی۔بعض نے قیامت پرچسپاں کیا ہے کہ اس وقت کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔اور بعض نے اس سے ترقیات اسلامی مراد لی ہیں۔یعنی جب بھی ترقی ہوگی وہ یہ خواہش کریں گے۔(تفسیر فتح البیان تفسیر سورۃ حجر زیر آیت ھذا) آنحضرت ﷺ کی غیر معمولی ترقی سے کفار مسلمان ہونے کی خواہش کرتے ہیں یہ معنے بھی درست ہیں۔ان پر کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ جب دشمنی بلاوجہ ہوتی ہے جیسا کہ کفار عرب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھی تودشمن کی ترقی پر انسان کو اکثر یہ خیال آجاتاہے کہ میں اس کی دشمنی نہ کرتا۔تواچھاتھا۔آج فائدہ ہی اٹھالیتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی محض حسد کی وجہ سے تھی۔اورآپؐ کی غیر معمولی ترقیات سے وہ حسد کے مواقع ہی جاتے رہے۔اس لئے ان کو بارہاخیال آتاہوگاکہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔اسی طرح جب وہ بدرکے مقام پر قتل ہورہے تھے توان کادل یہی چاہتاہوگاکہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔غرض اسلام کی فتوحات دشمنوں کے دلوں میں یہ حسرتیں ضرورپیداکرتی ہوںگی۔کہ کاش ہم بھی ساتھ ہوتے۔منافقوں کاقول توقرآن مجید میں صریح طورپربیان ہواہے کافروں کی بھی یہی حالت ہوتی ہوگی۔یہ ایک طبعی بات ہے اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔