تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 199

تقلیل کے لئے قرار دیاہے یعنی جس واقعہ پر رُبَما داخل ہوتا ہے۔وہ کبھی کبھی او رشاذو نادرکے طورپرہوتاہے ابوعبداللہ رازی نے لکھا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ یہ تقلیل کے لئے آتا ہے۔زمخشری کابھی یہی خیال ہے مگرسیبویہ کی طرف ایک روایت منسوب ہے۔کہ یہ تکثیر کے معنوںمیں بھی آتاہے۔زجاج کابھی یہی قول ہے۔بعض علماء کا خیال ہے کہ رُبَمَا نہ تقلیل کے لئے آتا ہے نہ تکثیرکے لئے۔بلکہ سیاق وسباق کے ماتحت تکثیر یاتقلیل کے معنی دیتا ہے جب تقلیل کاموقع ہوتوتقلیل کے معنے دیتا ہے اوراگرتکثیرکاموقع ہو۔توتکثیر کے۔اس کے ذاتی معنے کوئی نہیں۔یہ صرف اس بات پردلالت کرتا ہے کہ مابعد کاواقعہ ضرور ہواہے ( لسان العرب۔والبحر المحیط و الکشاف ، و الرازی) اس آیت میں رُبَمَاکے معنے تکثیرکے ہی لئے جاتے ہیں جن لوگوں نے ربماکوتقلیل کے لئے قراردیا ہے انہوں نے بھی اس جگہ تاویل کر کے تکثیرہی کے معنی لئے ہیں۔( لسان العرب) رُبَمَا کے متعلق ایک اور بحث اسی طرح رُبَ کے متعلق ایک اوربحث ہے۔اکثرلوگوں کی رائے ہے کہ رُبَما ہمیشہ ماضی کے معنوں کے بیان کرنے کے لئے آتا ہے خواہ اس کے بعد فعل مضارع ہی کیوں نہ ہو۔ان لوگوں نے رُبَمَایَوَدُّ کے معنے رُبَماوَدّ کئے ہیں۔اورپھرکہا ہے کہ رُبَمَایَوَدُّ فعل جو قاعد ہ کے روسے ماضی کے معنے دیتا ہے۔رُبَمَا کا لفظ مستقبل کے معنے میںبھی آتا ہے اس جگہ مستقبل کے لئے اس لئے استعمال کیاگیا ہے۔تاکہ یقین کے معنوں پر دلالت کرے لیکن عربی زبان کاتفحّص کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رُبَ کالفظ مستقبل کے معنے میں بھی آتا ہے۔ہندہ زوجہ ابوسفیان کہتی ہے ؎ یَا رُبَّ قَائِلَۃٍ غَدًا یَالَھْفَ اُمِّ مُعَاوِیَۃَ (البحر المحیط زیر آیت ھذا) اس میں یقیناً مستقبل کے معنے ہیں۔جیساکہ غَدًا کالفظ دلالت کرتا ہے۔پھر اسی طرح ایک شاعر سلیم القشیری کاشعر ہے ؎ وَمُعْتَصِمٍ بِالْجُبْنِ مِنْ خَشْیَۃِ الرَّدَی سیَرْدَی وَغَازٍ مُشْفِقٍ سَیَؤُوْبُ (البحر المحیط زیر آیت ھذا)