تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 201

اس آیت کے ایک اور معنے میرے نزدیک ان کے علاوہ آیت کے ایک اورمعنے بھی ہیں۔مفسّرین عام طور پر ظاہری لطافت۔فصاحت و بلاغت اورمعجزات پر بحث کرتے ہیں۔اورقرآن مجید کی تعلیمی خوبیوں پر بہت کم بحث کرتے ہیں۔میرے خیال میں سب سے بڑی چیز جس کے لئے قرآن کریم آیا ہے۔وہ اس کی کامل اور دلکش تعلیم ہے اور اسی کی طرف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ میں اشار ہ کیا ہے۔اورآیت رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا میں انہی تعلیمی خوبیوں پر رشک کا ذکرکیاہے یعنی فرماتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کی خوبیوں کو دیکھ کر بارہاکافر کہہ اٹھتے ہیں اورکہہ اٹھیں گے۔کاش ہم بھی مسلمان ہوتے اوریہ ہمیشہ ہوتارہاہے اورہوتارہے گا۔حضرت عمر ؓسے ایک یہودی نے کہا کہ قرآن مجید میں ایک آیت ہے۔اگر وہ ہماری کتاب میں اترتی توہم اس دن عید مناتے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ کون سی آیت ہے۔اس نے جواب دیا۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ۔الآیہ۔آپ نے فرمایا۔وہ دن تو ہمارے لئے دوعیدوں کادن تھا۔یعنی جمعہ کا دن اورعرفہ کے دن یہ آیت نازل ہوئی تھی۔(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)۔ایک یہودی کا اسلامی شریعت کے اعلیٰ ہونے کا اعتراف ایسا ہی ایک اور یہودی نے کہاکہ آپ کی شریعت میں ایک بات دیکھ کر حیرت ہوجاتی ہے کہ انسانی زندگی کاکوئی حصہ نہیں جس پر اس شریعت نے روشنی نہ ڈالی ہو(الترمذی ابواب الطہارۃ ،باب الاستنجاء بالحجارۃ)۔یہ خواہشات ہیں جو ہزاروں کے دلوں میں پیداہوئی ہوںگی۔مگر اظہار ان کادوایک کے منہ سے ہوا۔اورقرآن مجید نے بھی فرمایا ہے یَوَدُّ ُّ(ان کے دل چاہتے ہیں ) یقول نہیں فرمایا(کہ وہ منہ سے بھی اظہارکرتے ہیں)۔اس زمانہ میں اسلامی تعلیم کے قابل رشک مسائل اس زمانہ میں بھی طلاق کامسئلہ۔شراب کامسئلہ۔ورثہ کامسئلہ۔اورایسے ہی اور بہت سے مسائل ہیں کہ جن پر دنیارشک کررہی ہے۔جب ایک یورپین کے دل میں خیال آتاہے کہ ہمارے ہاں بھی طلاق کاقانون بنناچاہیے۔تودوسرے معنوں میں وہ یہی کہتا ہے کہ کاش میں مسلمان ہوتا۔ایسا ہی جب ایک امریکن کے دل میں یہ تحریک پیداہوتی ہے کہ شراب بندہونی چاہیے۔تووہ گویا رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ کی تصدیق کرتا ہے۔ایک ہندو کا اسلامی ازدواجی قانون پر رشک ابھی کچھ عرصہ ہوا ہندوستان کی لیجسلیٹو اسمبلی کے ایک ہندوممبر نے صغرسنی کی شادی کے متعلق مسودہ قانون پیش کیاتھا۔اس نے دورانِ تقریر میں کہا۔میں بڑی حسرت سے دیکھتا ہوں کہ جس طرح اسلام نے شادی کاقانون بناکر مسلم قوم کو محفوظ کردیاہے۔ویساقانون