تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 198
کثیرالتعداد اقوام میں وہ پھیل جائے گا۔جوکتابت سے علوم کو محفوظ کرتی ہیںمیرے نزدیک قرآن کریم میں دس جگہ کتاب کے ساتھ مبین کے لفظ کااستعمال کرنااوردوجگہ قرآن کے ساتھ مبین کےلفظ کااستعمال اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ کتاب سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ ہوتے ہیںبہ نسبت حفظ سے فائدہ اٹھانے والوں کے۔اورمسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ مسلمانوں میں تعلیم کے رواج کو زیادہ کریں۔تاکہ مسلمان قرآنی فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔تحریر اور حفظ دونوں مل کر پوری حفاظت کر سکتے ہیں۔اس سورۃ میں تعلیم اسلام کی حفاظت کا ذکر ہے اس سورۃ میں تعلیم اسلام کی حفاظت کا ذکر ہے اس لئے اس کی دونوں صفات یعنے کتاب اورقرآن بیان کی گئی ہیں۔کسی مضمون کی حفاظت کبھی مکمل طور پرنہیں ہوسکتی۔جب تک وہ تحریر اور حفظ دونوں ذریعہ سے محفوظ نہ کیاجائے۔انسانی حافظہ بھی غلطی کرجاتاہے اورکاتب بھی بھول چوک جاتا ہے۔لیکن یہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی غلطی کو نکال دیتے ہیں اوران دوسامانوں کے جمع ہونے کے بعد غلطی کاامکان باقی نہیں رہ سکتا۔قرآن کریم کویہ دونوںحفاظتیں حاصل ہیں۔یعنے وہ کتاب بھی ہے۔رسول کریم صلعم کی زندگی سے ہی اس کے الفاظ تحریر کرکے ضبط میں لائے جاتے رہے ہیں اور وہ قرآن بھی ہے۔یعنے نزول کے وقت سے آج تک سینکڑوں ہزاروں لوگ اسے حفظ کرتے اور اس کی تلاوت کرتے چلے آئے ہیں۔رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ۰۰۳ جن لوگوں نے(اس کا)انکارکیاہے۔وہ بسا اوقات آرزوکیاکرتے ہیں۔کہ کاش وہ (بھی اس کی)فرمانبرداری اختیارکرنے والے ہوتے۔حل لغات۔رُبَمَا۔رُبَ اور مَا کامرکب ہے رُبَ کبھی رُبَّ یعنی ب کی تشدید سے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے متعلق یہ اختلاف ہےکہ یہ حرف ہے یااسم۔بصریوں کے نزدیک اورنیز اکثر ائمہ لغت و نحو کے نزدیک یہ حرف ہے لیکن کوفی نحوی اسے اسم بتاتے ہیں۔بصری کہتے ہیں کہ رُبَ کے بعد ما کا لفظ اس لئے لایاگیا ہے کہ یہ حرف تھاکیونکہ حرف جرّ فعل پرنہیں آسکتا۔رُبَ کے معنوں کے متعلق اختلاف رُبَ کے معنوں کے متعلق بھی اختلاف ہے۔اکثر لوگوں نے اسے