تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 194

ہوگااگرمخالف پرواہ نہیں کرتے نہ کریں۔وہ اس کی سزاپائیں گے۔تُو اس خزانہ کو مومنوں میں تقسیم کر اورجواسےنہیں قبول کرتے اُنہیں سمجھاتا رہ۔اور خدا سے دعائیں کر۔کہ اسی ذریعہ سے تبلیغ کارستہ صاف ہوگا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ( تعالیٰ) کا نام لے کر( شروع کرتا ہوں )جو بے حد کرم کرنے والا (اور)بار باررحم کرنے والا ہے الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ۰۰۲ الٓرٰ۔یہ (ایک)کامل کتاب اور(اپنے مطالب کو خودہی)واضح کردینے والے قرآن کی آیات ہیں حلّ لُغَات۔تِلْکَ ،آیَاتُ ،الْکِتَابِ کی تشریح کے لئے دیکھیں سورۃ یونس آیت نمبر ۲ نیز دیکھیں الرعد آیت نمبر ۲۔مُبیْنٌ۔مُبِیْنٌ اَبَانَ سے اسم فاعل ہے اوراَبَان لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔یعنی کبھی اس کے معنے ظاہرکرنے کے ہوتے ہیں۔اور کبھی ظاہرہونے کے۔چنانچہ اقرب الموارد میں ہے۔اَبَانَ الشَّیْءُ۔اِتَّضَحَ۔کوئی چیز ظاہر ہوگئی۔(لازم)وَفُلَانٌ الشَّیْءَ۔اَوْضَحَہُ کسی چیز کو واضح اور ظاہر کیا۔(متعدی) سورۃ یوسف میں الْمُبِیْن کے معنے ظاہر کرنے والی کتاب کے تھے۔اور اس جگہ خود ظاہرہونے کے ہیں۔یعنی یہ بتانامقصود ہے کہ یہ کتاب اپنی آپ شاہد ہے۔قراٰن کی تنوین تفخیم(بڑائی کے اظہار )کے لئے ہے۔تفسیر۔کیا الْكِتٰبِ اور قرآن میں کوئی فرق ہے؟ اس جگہ لوگوں نے بحث کی ہے کہ کیا اَلکِتٰب اور قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ میں کوئی فرق ہے ؟کیونکہ یہاں پر درمیان میں وائو عاطفہ لائی گئی ہے۔اور عطف بالعمو م مغائر اشیاء میں ہوتا ہے۔دراصل انہیں یہ غلطی اس بات سے پیداہوئی کہ انہوں نے اَلْکِتٰب سے کاغذوں میںلکھی ہوئی کتاب سمجھ لیا ہے۔الْكِتٰبِ اور قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍکے الفاظ کو مقابل پر رکھنے کی وجہ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اَلکِتٰبِ اور قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ کے الفاظ کو مقابل پر رکھ کر اس بات کو پیش کیا ہے۔کہ قرآن مجید کی حفاظت تحریراوریاد دونوں ذریعوںسے کی جائے گی۔یہ لکھابھی جائے گا۔اور بکثرت پڑھابھی جائے گا۔گویا۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّالَہُ